امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سی این این نے بتایا کہ یہ رابطہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہِ راست جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے سخت مؤقف اپنایا، جس کے بعد اسرائیلی قیادت نے مذاکرات کی طرف جانے پر رضامندی ظاہر کی۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے یہ احساس کیا کہ اگر لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات نہ کیے گئے تو امریکی صدر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں، جس سے سفارتی دباؤ مزید بڑھ جاتا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس فون کال کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں لبنان کی صورتحال مرکزی موضوع رہی۔
مزید اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے آغاز میں نیتن یاہو نے ایران سے متعلق کشیدگی کے دوران بھی ٹرمپ سے رابطہ کیا تھا اور مبینہ طور پر اس بات پر زور دیا تھا کہ لبنان کو کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل نہ کیا جائے۔
تاہم بعد ازاں امریکی صدر نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں شدت کم کرے، جبکہ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 303 افراد ہلاک ہوئے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو شامل کیے بغیر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔







