امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک غیر معمولی اور سخت لہجے میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ آج رات ایسے حالات جنم لے سکتے ہیں جو ایران کی تہذیبی اور قومی شناخت پر گہرے اثرات مرتب کریں، اگرچہ وہ ذاتی طور پر اس طرح کے نتائج نہیں چاہتے، تاہم انہوں نے اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں اقتدار کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق یہ قیادت ماضی کے مقابلے میں زیادہ دانشمند، محتاط اور کم شدت پسند رویہ رکھتی ہے، جو مستقبل میں مختلف طرز حکمرانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی گزشتہ تقریباً سینتالیس برسوں پر محیط تاریخ، جسے انہوں نے خونریزی، بدعنوانی اور انسانی جانوں کے بڑے نقصان سے تعبیر کیا، اب اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور ممکن ہے کہ ایران ایک نئے سیاسی اور سماجی دور میں داخل ہو جائے۔







