امریکہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنا تیسرا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ بھیج دیا ہے۔ امریکی حکام نے میڈیا کو تصدیق کی ہے کہ بحری بیڑے جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینا کو مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ خطے میں امریکی موجودگی مضبوط ہو اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس سے قبل امریکہ کے دو دیگر بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں اور مختلف فوجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بیڑے کی تعیناتی ایران کے ساتھ تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک واضح فوجی اشارہ ہے اور اس کا مقصد علاقے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کی یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایران کے کسی بھی ممکنہ اقدام کے جواب میں فوراً کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس اقدام سے خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے اور کشیدگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر خلیج فارس اور اس کے اطراف میں جہاز رانی کے اہم راستوں پر۔
مزید یہ کہ بحری بیڑوں کی موجودگی نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ امریکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔







