برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ روس یورپ پر حملے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ برطانوی وزیر برائے مسلح افواج، الکارنز، نے کہا کہ جنگ یورپ کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور برطانیہ کو اپنے دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ برطانیہ نے ممکنہ جنگ سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔
الکارنز نے کہا کہ امریکا دیگر عالمی خطرات کی وجہ سے یورپ سے توجہ ہٹا سکتا ہے، اس لیے نیٹو ممالک کو دفاعی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے مزید فنڈز خرچ کرنے ہوں گے۔ ان کے مطابق افواج حملوں کا جواب دیتی ہیں، لیکن معاشرے، صنعتیں اور معیشتیں جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ نے بھی یورپ کو روس کا اگلا ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم جیسی تیاری کرنی ہوگی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی افواج اور وزارت دفاع پر جاسوسی اور ہیکنگ کے حملے 50 فیصد بڑھ گئے ہیں، اور اس میں چین، روس، ایران اور شمالی کوریا ملوث ہو سکتے ہیں۔ اس کے پیش نظر برطانیہ نیا دفاع کے لیے خفیہ معلومات کی حفاظت اور جاسوسی سے بچاؤ یونٹ قائم کرنے جا رہا ہے، جس میں برطانیہ، امریکا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا ایک ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے جون میں اعلان کیا تھا کہ دفاع کے لیے جی ڈی پی کا 3.5 فیصد مختص کیا جائے گا، اور ایف 35 اے جیٹ طیارے جو نیو کلئیر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔









