امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو حملوں کے بعد اہلیہ سمیت گرفتار کر کے بیرون ملک منتقل کر دیا گیا ہے۔
تاہم، ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ مادورو کو گرفتاری کے بعد کس ملک یا مقام پر منتقل کیا گیا۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی خصوصی فورسز نے گرفتار کیا اور انہیں بالآخر اپنے جرائم کے الزام میں عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔
اسی طرح ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا کہ مادورو کو امریکی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے اور اب انہیں فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کے لیے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
سینیٹر مائیک لی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید بتایا کہ وزیر خارجہ روبیو نے واضح کیا کہ مادورو اب امریکی تحویل میں ہیں اور انہیں امریکہ میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
مائیک لی کے مطابق، مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکہ کو فی الحال وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔













