امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون اپنے عہدے پر زیادہ دیر قائم نہیں رہیں گے۔ یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ فرانس کو اپنے “غزہ بورڈ آف پیس” منصوبے میں شامل کرنے میں ناکام رہے۔
صدر میکرون نے ٹرمپ کی پیشکش کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور اس سلسلے میں فرانسیسی مصنوعات، خاص طور پر شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگانے کی امریکی دھمکی بھی سامنے آئی۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ میکرون کو کوئی زیادہ پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ جلد ہی اپنے عہدے سے رخصت ہوں گے۔
اس دوران ٹرمپ نے میکرون کا نجی پیغام بھی شیئر کیا، جس میں فرانس کے صدر نے گرین لینڈ سے متعلق امریکی مؤقف پر حیرت ظاہر کی اور G7 اجلاس میں مشترکہ تعاون کی تجویز دی۔
فرانس کے صدر نے ٹرمپ کے یکطرفہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ یورپی یونین متحد ہو کر ایسے اقدامات کا جواب دے گی۔ میکرون نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی میعاد پوری ہونے تک صدر رہیں گے اور سیاسی دباؤ کے باوجود استعفیٰ نہیں دیں گے۔
ایمانویل میکرون نے 2017 میں اقتدار سنبھالا اور بعد میں دوبارہ منتخب ہوئے، تاہم ان کی حکومت کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریکوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا رہا، جس نے ان کی مقبولیت اور سیاسی استحکام پر اثر ڈالا۔













