امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری معاہدے تک پہنچنا بہت مشکل قرار دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات مارکو روبیو نے ہنگری کے دورے کے دوران وزیرِاعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران کے ساتھ معاملات پیچیدہ ہیں کیونکہ وہ سخت گیر شیعہ مذہبی رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں جو ملکی فیصلے مذہبی عقائد کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ بین الاقوامی سیاست یا جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھ کر۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے جو خدشات کو دور کر سکے، مگر اس بارے میں غیر ضروری خوش فہمی کا مظاہرہ نہیں کیا جا سکتا۔ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایران کے ساتھ حقیقی اور پائیدار معاہدہ کرنا مشکل رہا ہے اور اس بار بھی حالات اب تک حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مسقط میں ہوا تھا، جہاں فریقین نے براہ راست بات چیت تو نہیں کی، لیکن عمانی وزیر خارجہ سے علیحدہ ملاقات میں اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کیے۔
اب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہونے والا ہے، مگر مارکو روبیو کے بیان نے ایک بار پھر خدشات کو جنم دیا ہے۔









