طاہر مقصود
سول سروس اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اسلام آباد کو اُس مسئلے کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے وہ کئی دہائیوں سے دوچار ہے۔ بار بار، حکومت کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹیاں پاکستان کی بیوروکریسی میں موجود گہری خرابیوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں اور اصلاحات کے لیے بلند حوصلہ منصوبے پیش کرتی رہی ہیں، جن میں فوج، نجی شعبے اور بین الاقوامی انتظامی ماڈلز سے مثالیں لی جاتی ہیں۔ مگر ان مسلسل تشخیصات کے باوجود، نظام بنیادی طور پر وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
تقریباً ہر حکومت ایک ہی نتیجے پر پہنچتی ہے: سول سروس فرسودہ ہے، غیر مؤثر ہے، اور جدید طرزِ حکمرانی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اور تقریباً ہر حکومت اس نظام کو کسی بامعنی انداز میں بدلے بغیر رخصت ہو جاتی ہے۔ یہ ناکامی اتفاقیہ نہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی اب ایک غیر جانب دار انتظامی آلہ نہیں رہی۔ اس کی جگہ ایک ایسا ڈھانچہ موجود ہے جو سخت ضابطہ کاری کو وسیع صوابدیدی اختیار کے ساتھ جوڑتا ہے، اور یوں نااہلی محض حادثہ نہیں بلکہ نظام کی ساخت کا حصہ بن جاتی ہے۔ فائلیں سست رفتاری سے چلتی ہیں، فیصلے بار بار مؤخر کیے جاتے ہیں، اور ذمہ داری منظوری کے متعدد مراحل میں بکھر جاتی ہے۔ یہ جمود اس لیے برقرار رہتا ہے کہ یہ مراعات کا تحفظ کرتا ہے، نااہلی کو ڈھانپتا ہے، اور صوابدیدی اختیارات کو مالی فائدے میں بدلنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے فوج کے انسانی وسائل کے نظام کی تعریف قابلِ فہم ہے۔ فوج کا نظام واضح طور پر منظم ہے: اعلیٰ درجات تک پہنچنے کے راستے محدود ہوتے ہیں، ریٹائرمنٹ ایک لازمی حقیقت ہے، اور ترقی کارکردگی سے مشروط ہوتی ہے، نہ کہ محض وقت گزار لینے سے۔ اس کے برعکس، سول سروس میں ترقی کو زیادہ تر سینیارٹی کا معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ افسران یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ محض سروس میں رہتے ہوئے اعلیٰ گریڈز تک پہنچ جائیں گے۔ یہی ثقافتی فرق فوجی ماڈل کو سول انتظامیہ میں نافذ کرنا اصلاحاتی دستاویزات کے دعووں سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
فوج میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ اور سروس سے اخراج ایک معمول اور ادارہ جاتی عمل ہے۔ جبکہ سول سروس میں اسے سزا یا سیاسی انتقام سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اصلاح مسابقتی ترقی، کارکردگی کی حد، یا ابتدائی ریٹائرمنٹ متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہے، وہ فوری طور پر گہری جمی ہوئی توقعات اور قانونی تحفظات سے ٹکرا جاتی ہے۔ ماضی میں لیٹرل انٹری، کارکردگی کی بنیاد پر ترقی، یا لازمی علیحدگی جیسے اقدامات یا تو اپنی اصل شکل کھو بیٹھے یا اندرونی دباؤ کے تحت خاموشی سے واپس لے لیے گئے۔
بدعنوانی ان ساختی مسائل کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ سول سروس نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ ایسے کرایہ خوری کے محرکات سے بھی متاثر ہے جو فیصلہ سازی کو مسخ کر دیتے ہیں۔ اقربا پروری، پسندیدہ تعیناتیاں، صوابدیدی لائسنسنگ، اور خریداری کے عمل میں ہیرا پھیری ضمنی مسائل نہیں بلکہ طاقت کے استعمال کے مرکزی طریقے بن چکے ہیں۔ وسائل کی غلط تقسیم اس لیے ہوتی ہے کہ تعیناتیاں اور ترقیاں اکثر صلاحیت کے بجائے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ جو اصلاحات ان حقائق کا سامنا کرنے سے گریز کریں، وہ محض ظاہری اور نمائشی ثابت ہوں گی۔
اسی لیے اصلاحاتی کمیٹیاں بار بار خوب صورت فریم ورک تیار کرتی ہیں، مگر عمل درآمد میں ناکام رہتی ہیں۔ تربیتی پروگرام نئے سرے سے ترتیب دیے جا سکتے ہیں، کارکردگی کے جائزے کے فارم بدلے جا سکتے ہیں، اور عالمی بہترین مثالوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ مگر ان سب کی کوئی اہمیت نہیں جب تک سیاسی قیادت مسلسل ادارہ جاتی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ حقیقی اصلاح کا تقاضا یہ ہے کہ اختیار اُن ہاتھوں سے منتقل کیا جائے جو اس وقت ابہام اور صوابدید سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تاریخ میں ایسی کسی حکومت کی مثال کم ہی ملتی ہے جو اس جدوجہد کو انجام تک پہنچانے کے لیے تیار ہو۔
اس کے باوجود اصلاحات کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کا حکمرانی کا بحران اس کے معاشی اور سلامتی کے مسائل سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ کمزور پالیسی نفاذ، ناقص منصوبہ بندی، مالی ضیاع، اور ریگولیٹری گرفت، یہ سب انتظامی نااہلی کی ہی پیداوار ہیں۔ اس نااہلی کی قیمت شہریوں کو ادا کرنا پڑتی ہے، جو تاخیر شدہ خدمات، ناکام اصلاحات، اور پالیسی اعلانات اور زمینی نتائج کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
اب ضرورت بلند بانگ اور مثالی زبان کی نہیں بلکہ ایک عملی، اعداد و شمار پر مبنی حکمتِ عملی کی ہے۔ اس کا آغاز دیانت دار تشخیص سے ہونا چاہیے: یہ واضح کیا جائے کہ کارکردگی کہاں ناکام ہوتی ہے، ترغیبات کیسے غلط سمت میں ہیں، اور ریاست کے کون سے فرائض موجودہ صلاحیت کے ساتھ حقیقت پسندانہ طور پر انجام دیے جا سکتے ہیں۔ اصلاحات کا آغاز چھوٹے پیمانے سے ہونا چاہیے—ایسے پائلٹ منصوبوں سے جو ناپے جا سکیں اور جن پر عمل درآمد ممکن ہو، نہ کہ وسیع اصلاحات کے اعلانات سے جو صرف پریس کانفرنسوں تک محدود رہیں۔ کارکردگی کی بنیاد پر علیحدگی کے بارے میں قانونی اور آئینی وضاحت ناگزیر ہے؛ اس کے بغیر احتساب محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔
اصلاحات کی ترتیب بھی نہایت اہم ہے۔ اگر مراعات پر مبنی ترقی، بدعنوانی کے محرکات، اور سیاسی مداخلت کو حل کیے بغیر فوجی طرز کا نظم و ضبط سول نظام پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ ایک مفید نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہے، مگر تشخیص اور عمل درآمد کے درمیان فاصلہ اب بھی بہت وسیع ہے۔
پاکستان کے پاس اصلاحاتی خیالات کی کمی نہیں۔ اصل کمی سیاسی عزم کی ہے، ایسے نظام سے ٹکر لینے کے عزم کی جو ہر اصلاحی کوشش کو وقت کے ساتھ تھکا دینے کا فن بخوبی جانتا ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، سول سروس اصلاحات ایک بار بار دہرائی جانے والی خبر ہی بنی رہیں گی، جبکہ عدمِ اصلاح کی قیمت—ترقی میں تاخیر، مالی نااہلی، اور کمزور حکمرانی—مسلسل بڑھتی چلی جائے گی۔













