تنظیمِ تعاونِ اسلامی: خواب، حقیقت اور ناکامی کی داستان

[post-views]
[post-views]

ادارتی تجزیہ

تنظیمِ تعاونِ اسلامی ایک بڑے خواب کے ساتھ وجود میں آئی تھی۔ یہ خواب تھا کہ مشترکہ عقیدہ ستاون ممالک کو ایک مضبوط سیاسی قوت میں بدل دے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خواب مدھم پڑتا گیا، مگر ادارہ اپنی رسمی سرگرمیوں کے ساتھ آج بھی قائم ہے۔ اجلاس ہوتے ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ رسمی تقاریب ہی اتحاد کی علامت ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

گزشتہ دہائیوں میں اس تنظیم کے رکن ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ بعض نے مختلف علاقائی تنازعات میں مخالف گروہوں کی حمایت کی اور اپنی سیاسی ترجیحات کو تنظیم کے بنیادی اصولوں پر ترجیح دی۔ اس ادارے کے پاس ایسا کوئی مؤثر نظام نہیں جو اپنے ہی اراکین کو جواب دہ بنا سکے، کیونکہ جواب دہی کا مطلب انہی طاقتوں کو چیلنج کرنا ہوگا جو اس ادارے کو سہارا دیتی ہیں۔

عملی طور پر اس تنظیم نے اتحاد کے بجائے زیادہ تر بیانات اور قراردادیں ہی پیدا کی ہیں۔ اس کے اعلامیے کسی عملی قوت کے حامل نہیں ہوتے اور اجلاسوں کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیانات میدانِ سیاست یا جنگ میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لاتے۔ جس مسلم دنیا کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ دراصل مختلف تاریخی، مذہبی اور قومی تقسیمات کا مجموعہ ہے۔ سنی اور شیعہ اختلافات، عرب اور غیر عرب قومیتوں کی کشمکش، اور مختلف علاقائی طاقتوں کی سیاسی ترجیحات اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔

اصل مسئلہ اس تنظیم کی زبان اور طرزِ فکر میں بھی چھپا ہوا ہے۔ یہاں مذہبی اخوت کے نام پر اکثر قومی اور حکومتی مفادات کو پیش کیا جاتا ہے۔ اگر واقعی کوئی ادارہ اسلامی اصولوں پر قائم ہوتا تو وہ ہر مظلوم کے لیے آواز بلند کرتا، چاہے ظلم کرنے والا کوئی بھی رکن ملک کیوں نہ ہو۔ مگر اس معاملے میں اس تنظیم کی خاموشی ہی اس کی سب سے واضح حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos