بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

وفاقی حکام کا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی اور اہم صوبائی رہنماؤں کی انسدادی حراست کا اعتراف

[post-views]
[post-views]

اعلیٰ سطحی گرفتاریوں اور حراست کی باضابطہ تصدیق

وفاقی حکام اور سینئر پولیس افسران نے پیر کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل افریدی، کے پی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی، ایم این اے جنید اکبر اور متعدد صوبائی کابینہ کے اراکین کو انسدادی حراست (Preventive Custody) میں لے لیا گیا ہے۔ یہ باضابطہ تصدیق وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔

JPG+ 1

قانونی حیثیت اور امن و امان کی کارروائی کا جواز

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے باضابطہ طور پر حراستوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو اتوار کے روز انسدادی حراست میں لیا گیا تھا۔ چوہدری نے واضح کیا کہ جن افراد کے خلاف فوجداری مقدمات یا قانونی کارروائی زیر التوا ہے، انہیں قانون کے مطابق پروسیس کیا جائے گا، جبکہ جن کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ سینئر پولیس ذرائع نے اس بات کی مزید تصدیق کی کہ کم از کم 8 اعلیٰ سیاسی شخصیات کو انسدادی حراست میں رکھا گیا ہے، جو کہ تھانہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کی دفعہ 3 کے تحت ممکنہ نظر بندی کی رپورٹس سے مطابقت رکھتا ہے۔

JPG+ 2

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی انتقام کی مذمت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت نے ان گرفتاریوں اور حراستوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں صوبے میں وفاقی حکومت کی آئینی مداخلت سے راست طور پر جوڑا ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے موقف اختیار کیا کہ منتخب صوبائی قیادت کی حراست وفاق کے خالصتاً سیاسی مقاصد کو بے نقاب کرتی ہے۔ اکرم نے دلیل دی کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور اس کے بعد ہونے والی گرفتاریاں علاقائی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہیں، بلکہ جمہوری مینڈیٹ کو نقصان پہنچانے اور صوبائی خودمختاری کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔

JPG+ 2

وفاق اور صوبے کے درمیان درپیش شدید ترین تعطل

یہ انتظامی کریک ڈاؤن اور ایمرجنسی کا نفاذ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم وفاقی اتحاد اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان جاری محاذ آرائی میں شدید ترین تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں حکومتوں کے درمیان ادارہ جاتی تنازعات، حکمرانی کی پالیسیوں اور قومی کاؤنٹر ٹیررازم حکمتِ عملی پر نظریاتی اختلافات کے باعث کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے—یہی وہ اختلافات تھے جن کے نتیجے میں رواں ماہ کے آغاز میں باضابطہ دوطرفہ مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

JPG+ 1

رابطہ کی تفصیلات:

ریپبلک پالیسی کی تحقیقی مطبوعات، پالیسی بریف اور آئینی و حکمرانی کے امور پر ادارہ جاتی رسک اسیسمنٹس کے حصول کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]