قانون کی حکمرانی سے طاقت کی سیاست تک: عالمی نظام کس سمت جا رہا ہے؟

[post-views]
[post-views]

عبدالحسیب خان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حالیہ خطاب میں ایک ایسی حقیقت بیان کی ہے جسے بہت سی حکومتیں کھل کر تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ ان کے مطابق عالمی نظام تیزی سے اس سمت بڑھ رہا ہے جہاں قانون اور اصولوں کی جگہ طاقت اور جبر لے رہے ہیں۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا آہستہ آہستہ قانون کی حکمرانی سے نکل کر طاقت کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ اس عالمی تبدیلی کی نشاندہی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں مختلف تنازعات، سفارتی کشیدگیوں اور معاشی تعلقات میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔

یہ مسئلہ کسی ایک خطے یا تنازع تک محدود نہیں۔ یوکرین کی جنگ مسلسل انسانی جانوں کا نقصان کر رہی ہے جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ میں جاری قتل و غارت نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ دو ریاستی حل، جو کبھی مسئلہ فلسطین کے حل کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اب شدید دباؤ میں ہے۔ بڑی طاقتیں اب اکثر پہلے کارروائی کرتی ہیں اور بعد میں قانونی جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر وہ ایسا کرنے کی زحمت بھی اٹھائیں۔ بین الاقوامی قانون جو کبھی عالمی سیاست میں مشترکہ حوالہ سمجھا جاتا تھا، اب اکثر ایک قابلِ سودے بازی آلہ بن کر رہ گیا ہے۔ یہ رجحان خاص طور پر خطرناک اس لیے ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کے لیے انہی عالمی اصولوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

گوتریس کی تشویش دراصل ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کو تیزی سے معمول بنایا جا رہا ہے۔ سفارتی زبان بھی سخت ہوتی جا رہی ہے اور عالمی مقابلہ اب بقائے باہمی کے بجائے غلبے کے تصور کے گرد گھومنے لگا ہے۔ برتری اور استثنا کے نظریات دوبارہ عالمی سیاست کی زبان میں داخل ہو چکے ہیں۔ جب عالمی رہنما خود کو قوانین اور حدود سے بالا تر قرار دیتے ہیں تو اس کا اثر صرف ان کے اپنے ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری عالمی سیاست پر پڑتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال کئی طرح کے خطرات پیدا کرتی ہے۔ عالمی اصولوں کی کمزوری کوئی نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے عملی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ سرحدوں کا احترام، تنازعات کا سفارتی حل اور معاشی دباؤ کے استعمال جیسے معاملات براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں مالیاتی نظام، تجارت اور حتیٰ کہ امداد کو بھی سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب بڑی معیشتیں اپنی ترجیحات تبدیل کرتی ہیں یا امداد کو سیاسی شرائط سے مشروط کرتی ہیں تو ترقی پذیر ممالک مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ٹیکنالوجی بھی ہے۔ گوتریس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو ایسے طریقوں سے استعمال کیا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کو محدود اور عدم مساوات کو بڑھا سکتے ہیں۔ عملی طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے، معلوماتی ماحول کو مسخ کر سکتی ہے اور معاشروں میں تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے۔ جن ریاستوں کے ادارے پہلے ہی کمزور ہیں وہ اس نئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ضابطہ سازی اور ادارہ جاتی صلاحیت سے محروم رہتی ہیں۔

اس تناظر میں سیکریٹری جنرل کا بیان محض اخلاقی تشویش نہیں بلکہ ایک عملی انتباہ بھی ہے۔ اگر طاقت کو معمول کی ریاستی حکمت عملی کے طور پر قبول کر لیا گیا تو عالمی نظام کی نوعیت بدل جائے گی۔ اس کے نتیجے میں اسلحے پر اخراجات بڑھیں گے، اعتماد کم ہوگا اور سفارت کاری کی جگہ ردِعمل پر مبنی پالیسیاں لے لیں گی۔ ایسے ماحول میں حتیٰ کہ معقول ریاستیں بھی زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر سکتی ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں ہوگا کہ ان کے تحمل کا جواب بھی تحمل سے دیا جائے گا۔

پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے بہتر راستہ کثیرالجہتی نظام کی مضبوطی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ ایک ایسا عالمی نظام جہاں قوانین اور اصول واضح ہوں، چھوٹے ممالک کو بھی اپنی پوزیشن بہتر انداز میں پیش کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر عالمی سیاست محض طاقت اور دباؤ کے اصول پر چلنے لگے تو کمزور ریاستوں کے لیے اپنی خودمختاری اور مفادات کا تحفظ مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم عالمی سطح کی بے یقینی کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جب عالمی مقابلہ شدت اختیار کرتا ہے تو داخلی کمزوریاں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ معاشی استحکام، مضبوط ادارے اور واضح خارجہ پالیسی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ریاست کو عالمی اتار چڑھاؤ کے دوران زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ وہ ممالک جو داخلی ہم آہنگی اور پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں، عالمی بحرانوں کا مقابلہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

گوتریس کی تنبیہ دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عالمی نظام خود بخود قائم نہیں رہتا۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی سیاسی عزم درکار ہوتا ہے۔ اگر طاقتور ممالک اپنے فوری مفادات کے لیے عالمی اصولوں کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے تو اس کا نتیجہ استحکام نہیں بلکہ مزید انتشار ہوگا۔ ایسے ماحول میں تنازعات زیادہ تیزی سے بڑھیں گے، اتحاد غیر متوقع طور پر بدلیں گے اور چھوٹے ممالک کو اپنے مفادات کے دفاع کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

طاقت کی سیاست کی طرف یہ جھکاؤ ناگزیر بھی نہیں اور ناقابل واپسی بھی نہیں۔ مگر اس رجحان کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی نظام واقعی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے یہ بات کھل کر کہہ دی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیں گی یا اسے محض سفارتی بیان سمجھ کر نظر انداز کر دیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos