ادارتی تجزیہ
پاکستان میں پہلی مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑی کے رواں سال جون یا جولائی میں سڑکوں پر آنے کی خبر نے بظاہر ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کی قیمت دس لاکھ روپے سے کم رکھی جائے گی اور آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی بھی کی جائے گی۔ بلاشبہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام شہری کے لیے سفر کے اخراجات ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سربراہ کے مطابق لاہور میں اس گاڑی کی تیاری کے لیے پلانٹ قائم کیا جا چکا ہے اور ایک مرتبہ چارج ہونے پر یہ تقریباً ایک سو اسی کلومیٹر تک سفر کر سکے گی۔ اگر یہ دعویٰ حقیقت بن جاتا ہے تو یہ پاکستان کی آٹو صنعت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ حکام بڑے آٹو ساز اداروں کی اجارہ داری کے خاتمے کی بھی بات کر رہے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی ہوگا یا ماضی کی طرح ایک اور اعلان بن کر رہ جائے گا۔ پاکستان میں آٹو صنعت دہائیوں سے چند بڑی کمپنیوں کے گرد گھومتی رہی ہے جہاں قیمتیں زیادہ اور معیار اکثر تنقید کی زد میں رہا۔ اگر حکومت واقعی مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے صرف اعلانات سے آگے بڑھ کر مسابقتی ماحول، شفاف پالیسی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل بڑی حد تک انہی اداروں کی کامیابی سے جڑا ہے، جو لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور برآمدات میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔
اصل امتحان اب پالیسی کے تسلسل اور عملی نفاذ کا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے مقامی صنعت، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اقدام واقعی پاکستان کی صنعتی سمت بدل سکتا ہے، بصورت دیگر یہ بھی ترقی کے وعدوں کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ بن کر رہ جائے گا۔









