اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے ان رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری پروگرام کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ پروگرام محض پیٹرولیم مصنوعات پر محصولات تک محدود نہیں بلکہ مالیاتی اور ساختی اصلاحات کے وسیع منصوبے پر مشتمل ہے۔
پاکستان کے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام میں سات ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی پائیداری و ماحولیاتی لچک سے متعلق سہولت شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے یہ وضاحت ایک رپورٹ کے جواب میں جاری کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کی شرح سے متعلق آئی ایم ایف کی کسی واضح شرط کے باوجود وزارت نے اسے پروگرام کا مرکزی نکتہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں پیٹرولیم لیوی پر حکومتی انحصار کو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور کمزور معاشی ترقی سے بھی منسلک کیا گیا تھا۔
وزارت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی محصولات جمع کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا، ٹیکس نیٹ میں توسیع، صوبائی ٹیکسوں میں اصلاحات اور سرکاری اخراجات کو معقول بنانا بھی شامل ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کی محصولات سے متعلق حکمتِ عملی زیادہ وسیع ہے
وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پروگرام میں اضافی محصولات کے حصول اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے، نہ کہ صرف پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس وصول کرنے پر۔
وزارت نے تسلیم کیا کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی حکومت کے محصولات حاصل کرنے کے ذرائع میں سے ایک ہے، تاہم اسے آئی ایم ایف پروگرام کا مرکزی ستون قرار دینا اس کی اہمیت کو حقیقت سے زیادہ بڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔
وزارت نے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں پیٹرولیم لیوی کی قیمتوں سے متعلق کوئی شرط موجود نہیں۔ اس کے مطابق یہ تشریح تکنیکی اعتبار سے محدود اور ممکنہ طور پر گمراہ کن ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ اگرچہ پروگرام میں پیٹرولیم لیوی کی کوئی ایک مستقل شرح مقرر نہیں کی گئی، تاہم آئی ایم ایف کی شائع شدہ دستاویزات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان پر عائد محصولات سے متعلق واضح نکات موجود ہیں۔
ان میں بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق مقامی ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدہ ردوبدل بھی شامل ہے۔ اسی طرح پائیداری و ماحولیاتی لچک سے متعلق سہولت کے تحت پیٹرولیم لیوی کے موجودہ نظام میں اضافی کاربن لیوی متعارف کرانے کی اصلاح بھی شامل ہے۔
وزارت کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق پالیسی باہمی طور پر طے شدہ آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے، نہ کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے یک طرفہ طور پر اختیار کی گئی مالیاتی حکمتِ عملی۔
مہنگائی اور کمزور معاشی ترقی کو صرف پیٹرولیم لیوی سے جوڑنے کی مخالفت
وزارتِ خزانہ نے مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور کم معاشی ترقی کی بنیادی وجہ پیٹرولیم لیوی کو قرار دینے کی کوشش بھی مسترد کر دی۔
وزارت کے مطابق وسیع معاشی نتائج کو کسی ایک مالیاتی اقدام سے منسوب کرنا تجزیاتی اعتبار سے درست نہیں۔
اس نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں مہنگائی اور معاشی ترقی متعدد ملکی اور بین الاقوامی عوامل سے متاثر ہوتی ہیں، جن میں جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال، عالمی اور مقامی منڈیوں میں اشیا کی قیمتیں، شرحِ مبادلہ میں تبدیلی، زری حالات، مالیاتی عدم توازن، بیرونی مالی وسائل کی محدود دستیابی اور عالمی معاشی جھٹکے شامل ہیں۔
آئی ایم ایف مذاکرات پر وزارتِ خزانہ کے کنٹرول سے متعلق اعتراضات کا جواب
وزارت نے ان دعوؤں پر بھی وضاحت پیش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کی تشکیل اور مذاکرات پر وزارتِ خزانہ کا سخت کنٹرول رہا، جس کے نتیجے میں زرعی شعبے سے متعلق وعدوں اور مالیاتی استحکام پر ضرورت سے زیادہ توجہ جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
یہ معاملہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آیا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے والی ٹیم میں منصوبہ بندی کمیشن کا نمائندہ بھی شامل ہونا چاہیے۔
وزارتِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام صرف فنانس ڈویژن کا نہیں بلکہ پوری حکومت کا مشترکہ پروگرام ہے۔
اس کے مطابق توسیعی فنڈ سہولت اور پائیداری و ماحولیاتی لچک سے متعلق سہولت میں متعدد وفاقی اور صوبائی اداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق اصلاحات اور وعدے شامل ہیں۔
ان اداروں میں فنانس ڈویژن، منصوبہ بندی کمیشن، وزارتِ منصوبہ بندی، وزارتِ توانائی، صوبائی حکومتیں، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریوں کے دائرے میں تکنیکی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں اور اہداف و معیارات کے تعین میں بھی قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام صرف مالیاتی اہداف تک محدود نہیں
وزارتِ خزانہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام صرف مالیاتی اعدادوشمار اور مقررہ اہداف پر مرکوز ہے۔
وزارت کے مطابق معاشی استحکام کا مقصد پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنا ہے۔
اس نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شائع شدہ دستاویزات میں معاشی ترقی کو فروغ دینے والی ساختی اصلاحات، سماجی تحفظ، طرزِ حکمرانی، توانائی کے شعبے کی کارکردگی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور معیشت میں موجود بگاڑ کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی تازہ ترین اسٹاف رپورٹ میں بھی کمزور طبقات کے تحفظ کے ساتھ مضبوط معاشی ترقی کے لیے اصلاحات تیز کرنے پر بات چیت کا ذکر موجود ہے۔
مالیاتی استحکام اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے منسلک ہیں
وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مالیاتی استحکام کو معاشی ترقی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
اس کے مطابق پاکستان محدود مالیاتی اور بیرونی وسائل اور بڑے مالی تقاضوں کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام میں داخل ہوا تھا۔ اس لیے پائیدار مالیاتی نظام کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور قرضوں کی دوبارہ ادائیگی کے خطرات کم کرنا نجی سرمایہ کاری اور دیرپا معاشی ترقی کے لیے ضروری تھا۔
وزارت نے کہا کہ آئی ایم ایف کے تیسرے جائزے کی دستاویزات کے مطابق مالیاتی استحکام کے اقدامات سے معاشی عدم توازن اور طلب کے دباؤ میں کمی آئی، مہنگائی کم کرنے میں مدد ملی، بیرونی شعبے میں استحکام پیدا ہوا، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے اور مجموعی معاشی ترقی میں بحالی ریکارڈ کی گئی۔
کمزور طبقات کے تحفظ کے اقدامات پر وزارت کا مؤقف
وزارتِ خزانہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ مالیاتی استحکام کی پالیسیوں میں کمزور طبقات کے تحفظ کو نظرانداز کیا گیا۔
اس کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام میں سماجی تحفظ کے لیے اخراجات کی کم از کم حدود اور واضح وعدے شامل کرنے کی حمایت کی۔
وزارت نے حالیہ ہدفی ایندھن سبسڈی پروگرام کو بھی اسی سلسلے کا ایک اقدام قرار دیا، جس کا مقصد کمزور گھرانوں کو عارضی، مخصوص اور مالیاتی اعتبار سے پائیدار مدد فراہم کرنا ہے۔
وزارت کے مطابق اس طریقے کو عمومی سبسڈی پر ترجیح دی گئی ہے کیونکہ غیر ہدفی سبسڈیاں حکومت کے لیے بڑے مالی واجبات پیدا کر سکتی ہیں۔
وزارت نے یہ بھی کہا کہ حکومتی قرضوں کا تعلق مالیاتی عدم توازن سے ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران قرضوں میں اضافے کی شرح دو دہائیوں کی کم ترین سطح تک محدود رہی۔
زرعی اصلاحات صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری بھی ہیں
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ زرعی شعبے سے متعلق آئی ایم ایف پروگرام کے وعدے صرف فنانس ڈویژن کی ذمہ داری نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر زرعی آمدن پر ٹیکس آئینی اور انتظامی اعتبار سے صوبائی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
اس لیے ایسی اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کی شرکت ضروری ہے۔
وزارت کے مطابق آئی ایم ایف سے متعلق اصلاحات کا جائزہ لیتے وقت مجموعی پروگرام کی رابطہ کاری میں فنانس ڈویژن کے کردار اور متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کی آئینی و انتظامی ذمہ داریوں میں فرق برقرار رکھنا چاہیے۔
اصل بحث معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقلی ہونی چاہیے
اپنے بیان کے اختتام پر وزارتِ خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی مجموعی رابطہ کاری میں فنانس ڈویژن کی ذمہ داری اور آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف کے بعد پالیسی سازی، قانون سازی اور عمل درآمد میں متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داریوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
وزارت کے مطابق بنیادی پالیسی بحث کو معاشی استحکام اور ترقی کے درمیان انتخاب کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس کے بجائے توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ پاکستان مالیاتی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کی جانب کیسے بڑھے، تاکہ وہ مالیاتی اور بیرونی عدم توازن دوبارہ پیدا نہ ہوں جن کے باعث ملک کو ماضی میں بار بار آئی ایم ایف کے استحکامی پروگراموں سے رجوع کرنا پڑا۔









