بلاول کامران
پاکستان امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں براہِ راست فریق نہیں ہے۔ اس نے اس تنازع میں کوئی گولی نہیں چلائی، نہ ہی وہ ان طاقتوں کی صف میں شامل ہے جو اس جنگ کے فیصلے کر رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس جنگ کے اثرات پاکستان تک پوری شدت کے ساتھ پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہے، جبکہ عوام گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایران کے گرد بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پاکستان کے لیے ایک نیا معاشی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔
یہ بحران میزائلوں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان تک پہنچ رہا ہے۔ یہی وہ تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگ کے بعد اس راستے سے جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کئی بحری کمپنیوں نے خطرے کے باعث اپنے جہاز اس علاقے میں بھیجنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ انشورنس اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
بیشتر ممالک کے لیے یہ مسئلہ پریشان کن ضرور ہے، مگر پاکستان کے لیے اس کی شدت کہیں زیادہ ہے۔ ملک کے پاس صرف چند ہفتوں کے پٹرولیم ذخائر موجود ہیں، جبکہ خام تیل کا ذخیرہ اس سے بھی کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سپلائی میں طویل رکاوٹ پیدا ہوئی تو مقامی سطح پر قلت جلد ظاہر ہو سکتی ہے۔ بعض علاقوں میں پٹرول پمپس پر پہلے ہی محدود فروخت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور ڈیلرز قیمتوں میں متوقع اضافے کے پیش نظر ذخیرہ اندوزی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے، مگر اصل مسئلہ تیار شدہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی ہے۔ جنگی خطرات، شپنگ کے اخراجات اور انشورنس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایندھن کی حقیقی لاگت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے خام تیل کی قیمتیں مستحکم بھی ہو جائیں، پاکستان تک پہنچنے والا ایندھن مہنگا ہی رہے گا جب تک سپلائی کا نظام متاثر ہے۔
ایسے حالات میں حکومت کے لیے سب سے پہلا اور مشکل فیصلہ قیمتوں کے تعین کا ہے۔ پاکستان میں اکثر سیاسی دباؤ کے باعث ایندھن کی قیمتیں بڑھانے میں تاخیر کی جاتی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ حکمت عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سرکاری قیمتیں عالمی منڈی سے بہت پیچھے رہیں تو ذخیرہ اندوزی اور قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے قیمتوں میں بروقت اور حقیقت پسندانہ تبدیلی ضروری ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عالمی قیمتوں کا پورا بوجھ فوری طور پر عوام پر ڈال دیا جائے۔ حکومت کے پاس کچھ پالیسی اختیارات موجود ہیں، جیسے پٹرولیم لیوی میں کمی، درآمدی ڈیوٹی کو محدود کرنا یا زرعی شعبے کے لیے ڈیزل پر خصوصی ریلیف دینا۔ اس طرح ایک توازن پیدا کیا جا سکتا ہے جس سے ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی بھی ہو اور عوام پر بوجھ بھی کم رہے۔
اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو توانائی کے شعبے میں مزید مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔ قطر سے مائع قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد بھی غیر یقینی ہو گئی ہے۔ ایسے حالات میں بجلی کی پیداوار اور گیس کی فراہمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب طلب زیادہ ہوتی ہے۔
اسی لیے توانائی کی بچت اور طلب کے انتظام کی پالیسی بھی ضروری ہو سکتی ہے۔ کام کے دن کم کرنا، سرکاری تعطیلات میں توسیع یا جہاں ممکن ہو وہاں گھر سے کام کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات وقتی طور پر توانائی کے دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔ یہ غیر معمولی اقدامات ضرور ہیں مگر غیر معمولی حالات میں ایسے فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
صنعتی شعبہ بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ مقامی ریفائنریوں کی پیداوار بڑھائے اور فرنس آئل جیسے متبادل ایندھن کے استعمال کو قابلِ عمل بنائے تاکہ صنعت اور برآمدی شعبہ مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اس جنگ کا انتخاب نہیں کیا، مگر اس کے معاشی اثرات سے بچنا ممکن نہیں۔ اگر یہ تنازع طویل ہوا تو مہنگائی، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور توانائی کی قلت جیسے مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت بروقت، حقیقت پسندانہ اور متوازن فیصلے کرے، کیونکہ وقت کم ہے اور چیلنج تیزی سے بڑھ رہا ہے۔








