اداریہ
کئی دہائیوں تک ایران نے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی پر عمل کیا۔ براہِ راست مضبوط روایتی فوج بنانے کے بجائے اس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حامی گروہوں کا ایک وسیع جال قائم کیا۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، اور عراق و شام میں مسلح دھڑے اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے۔ اس طریقے سے ایران کو اپنی جنگیں خود لڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ یہ گروہ اس کے مفادات کے لیے میدان میں موجود رہتے تھے۔
یہ پالیسی صبر اور پس پردہ اثر و رسوخ پر مبنی تھی۔ ایک عرصے تک ایسا محسوس ہوا کہ یہ طریقہ کار کامیاب ہے۔ ایران نے براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے بغیر خطے میں اپنا اثر بڑھایا اور اس کے مخالفین ایسی شورشوں میں الجھے رہے جنہیں نہ مکمل طور پر ختم کیا جا سکا اور نہ ہی آسانی سے جیتا جا سکا۔
لیکن جدید جنگی حقیقتیں صرف چالاک حکمتِ عملی پر نہیں بلکہ مضبوط عسکری طاقت پر بھی انحصار کرتی ہیں۔ جب اسرائیل اور امریکہ نے براہِ راست اپنی فوجی طاقت استعمال کی تو یہ پورا نظام تیزی سے کمزور پڑتا دکھائی دیا۔ پراکسی گروہ دباؤ ڈالنے اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مؤثر ہو سکتے ہیں، مگر وہ کسی ملک کو بڑے پیمانے کے حملوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
ایران کے پاس ایسی فضائی طاقت نہیں تھی جو آسمانوں میں مقابلہ کر سکے۔ اس کی بحری صلاحیتیں بھی محدود تھیں اور دفاعی نظام بھی بڑے حملوں کے سامنے مضبوط دیوار ثابت نہ ہو سکا۔ جب اس کے حامی گروہ دباؤ میں آئے تو ایران خود کو زیادہ غیر محفوظ حالت میں محسوس کرنے لگا۔
اصل غلطی یہ تھی کہ ایران نے شورش پیدا کرنے کی صلاحیت کو مکمل دفاعی طاقت سمجھ لیا۔ کسی خطے میں مسائل پیدا کرنا اور کسی بڑے تصادم سے محفوظ رہنا دو الگ باتیں ہیں۔ ایران پہلی حکمتِ عملی میں کامیاب رہا، مگر دوسری کے لیے وہ مطلوبہ تیاری نہ کر سکا۔ یہی خلا آج اس کے لیے ایک بڑی آزمائش بن کر سامنے آ رہا ہے۔









