اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے ہفتہ کے روز پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر ۵۵ روپے اضافے کے حکومتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام پر ’’مہنگائی کا بم‘‘ قرار دیا اور فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اس راستے پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے، جس کے باعث عالمی صورتحال کے معاشی اثرات ملک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اس اقدام کو بدترین طرز حکمرانی اور عوام دشمن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں تو ایسے فیصلے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم لیوی کی مد میں فی لیٹر ۱۰۰ روپے سے زیادہ وصول کر رہی ہے اور سوال اٹھایا کہ اضافی بوجھ عوام اٹھائیں گے یا حکمران طبقہ۔
حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں ۲۰ روپے اضافہ کر کے اسے تقریباً ۱۰۵ روپے فی لیٹر کر دیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی ۷۷ روپے سے کم کر کے ۵۷ روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد آئندہ ہفتے کے لیے ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت ۳۳۵ روپے ۸۶ پیسے اور پٹرول کی قیمت ۳۲۱ روپے ۱۷ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنے پروٹوکول، مراعات اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے چاہئیں اور فوری طور پر عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل ہو گئی تو اس کے اثرات غذائی تحفظ پر بھی پڑ سکتے ہیں، اس لیے زرعی شعبے کو کھاد، بیج اور دیگر زرعی لوازمات پر سبسڈی دی جائے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بھی ایک اجلاس کے بعد جاری بیان میں قیمتوں میں اضافے کو ’’ظالمانہ اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر مزید مہنگائی مسلط کر رہی ہے جبکہ حکمران اشرافیہ کی مراعات برقرار ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ایندھن مہنگا کرنے سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھیں گی اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عوام قربانیاں دے رہے ہیں تو کیا حکمرانوں کے طیاروں اور پروٹوکول کے اخراجات کم نہیں کیے جا سکتے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی الزام لگایا کہ حکومت نے عالمی منڈی کو جواز بنا کر قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ پٹرول پر سو روپے سے زائد ٹیکس برقرار رکھ کر حکمرانوں کی آسائشیں برقرار رکھی جا رہی ہیں۔








