اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ضابطۂ فوجداری 1898 کی دفعہ 540 کے تحت ٹرائل کورٹس کے اختیارات کے استعمال سے متعلق رہنما اصول جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اضافی شواہد طلب کر سکتی ہیں، تاہم اس اختیار کو استغاثہ کا مقدمہ مضبوط بنانے یا اس کے شواہد میں بنیادی خامیاں دور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس محمد صلاح الدین احمد پنہور کے تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں پاکستان کے فوجداری نظام میں عدالت کے کردار، ضابطۂ فوجداری کی دفعات 94 اور 540، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 161 اور منصفانہ سماعت کے آئینی حق کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا گیا۔
جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ فوجداری عدالت کو غیر جانب دار رہنا چاہیے، لیکن وہ عدالتی کارروائی کے دوران محض خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ملزم کا جرم ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہی عائد ہوتی ہے، جبکہ عدالت اس بات کو یقینی بنانے کی پابند ہے کہ اس کا فیصلہ قانونی، منصفانہ اور انصاف کے لیے ضروری شواہد پر مبنی ہو۔
سپریم کورٹ نے دفعات 94 اور 540 کے دائرۂ اختیار کی وضاحت کر دی
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 94 عدالت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی تفتیش یا مقدمے کی سماعت کے لیے ضروری یا مناسب سمجھی جانے والی دستاویزات اور دیگر مواد کی پیشی کا حکم دے سکتی ہے۔
دوسری جانب دفعہ 540 کے تحت عدالت کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر کسی شخص کو بطور گواہ طلب کر سکتی ہے، عدالت میں موجود کسی شخص کا بیان قلم بند کر سکتی ہے یا پہلے سے بیان دینے والے گواہ کو دوبارہ طلب کرکے اس سے مزید سوالات کر سکتی ہے۔
فیصلے میں دفعہ 540 کے دونوں حصوں کے درمیان فرق بھی واضح کیا گیا۔
عدالت کے مطابق اس دفعہ کا پہلا حصہ اضافی شواہد حاصل کرنے کے لیے صوابدیدی اختیار فراہم کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ اس وقت لازمی ہو جاتا ہے جب متعلقہ شہادت مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔
بینچ نے کہا کہ پاکستان کا فوجداری نظام بنیادی طور پر فریقین کے درمیان مقدمہ لڑنے کے اصول پر قائم ہے، جس میں استغاثہ اور صفائی اپنے اپنے دلائل اور شواہد پیش کرتے ہیں۔
تاہم عدالتوں کو قانون کے تحت محدود اختیارات بھی حاصل ہیں جن کے ذریعے وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خود ضروری شواہد حاصل کر سکتی ہیں۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ان اختیارات کا مطلب یہ نہیں کہ جج استغاثہ کا کردار سنبھال لے۔
ٹرائل کورٹس کے لیے سات رہنما اصول جاری
سپریم کورٹ نے دفعہ 540 کے استعمال سے متعلق سات بنیادی اصول وضع کیے ہیں۔
پہلا اصول: اگرچہ فوجداری مقدمات میں استغاثہ اور صفائی اپنے اپنے شواہد پیش کرتے ہیں، تاہم عدالت ضابطۂ فوجداری کی دفعات 94 اور 540 اور قانونِ شہادت آرڈر کے آرٹیکل 161 کے تحت شواہد حاصل کرنے کے محدود اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔
دوسرا اصول: دفعہ 540 کا ابتدائی حصہ صوابدیدی ہے، جبکہ اس کا آخری حصہ اس وقت لازمی ہو جاتا ہے جب متعلقہ شہادت منصفانہ فیصلے کے لیے ناگزیر ہو۔
تیسرا اصول: کسی شخص کا نام گواہوں کی ابتدائی فہرست میں شامل نہ ہونا یا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت اس کا بیان پہلے سے ریکارڈ نہ ہونا، اسے دفعہ 540 کے تحت بطور گواہ طلب کرنے میں بذاتِ خود رکاوٹ نہیں ہے۔
چوتھا اصول: دفعہ 265-C کے تحت ملزم کو وہ موجودہ مواد بروقت فراہم کرنا ضروری ہے جس کی فراہمی قانون کے مطابق لازم ہو۔ تاہم اس دفعہ کے تحت استغاثہ کو ایسا بیان پیش کرنے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا جو کبھی ریکارڈ ہی نہیں کیا گیا۔
پانچواں اصول: عدالتیں دفعہ 540 کو محض کسی فریق کا مقدمہ بہتر بنانے یا شواہد میں موجود بنیادی کمزوری دور کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتیں۔
چھٹا اصول: جب مقدمے میں اضافی شہادت شامل کی جائے تو ملزم کو غیر متوقع شواہد کے باعث ہونے والی ناانصافی سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ مواد کی فراہمی، دفاع کی تیاری کے لیے مناسب موقع اور گواہوں پر جرح کا حق یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ساتواں اصول: کسی ضابطہ جاتی بے قاعدگی کے نتائج کا تعین اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ اس سے ملزم کو حقیقت میں کتنا نقصان پہنچا ہے۔ دورانِ سماعت اضافی شواہد طلب کرنے کا ہر فیصلہ پورے مقدمے کی سماعت نئے سرے سے شروع کرنے کا خودکار جواز نہیں بنتا۔
عدالتی صوابدید کے استعمال میں منصفانہ سماعت کا حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے
سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ٹرائل کورٹس پر منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری شواہد حاصل کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم اس ذمہ داری کو قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے پورا کرنا ضروری ہے۔
ججز ضروری شواہد کی عدم موجودگی میں غیر فعال نہیں رہ سکتے، لیکن انہیں استغاثہ کے مقدمے کی خامیاں دور کرنے کے لیے بھی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے جاری کردہ رہنما اصولوں کا مقصد عدالت کے ان اختیارات کے درمیان توازن برقرار رکھنا اور ملزم کے منصفانہ سماعت کے آئینی حق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔









