اسلام آباد: پاکستان کے مرکزی بینک نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر بنیادی شرحِ سود میں نصف فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو معاشی استحکام برقرار رکھنے اور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز شرحِ سود میں 50 بنیادی نکات اضافے کا اعلان کیا، جو اپریل کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ یہ فیصلہ بلومبرگ کے سروے میں شامل بیشتر ماہرینِ معاشیات کی توقعات کے مطابق ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرونی معاشی جھٹکے پاکستان میں قیمتوں کے استحکام کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ملکی معیشت کے لیے ایک حساس مرحلے پر کیا گیا ہے، جہاں قرضوں کی لاگت کاروباری سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں، گھریلو اخراجات اور حکومت کی قرضوں کی ادائیگی سے متعلق ذمہ داریوں پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔
معاشی پالیسی سازوں کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ بلند شرحِ سود مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور غیر ضروری قرض گیری کی حوصلہ شکنی میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کاروباری اداروں اور عام شہریوں کے لیے مالی وسائل کا حصول بھی مہنگا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال خصوصاً ایسے وقت میں تشویش ناک ہے جب اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ قومی معیشت کی اہم ضرورت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور عالمی معاشی بے یقینی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارت میں نئی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر نمایاں انحصار کرتا ہے، تیل کی رسد، بحری تجارتی راستوں یا بین الاقوامی نقل و حمل کے اخراجات میں خلل داخلی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ ابتدا میں ان اثرات کا تعلق درآمدی اشیا سے ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے نتائج ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور عام صارفین تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایندھن کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھاتا ہے، جن کا مالی بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے طویل ہونے کی صورت میں درآمدی منصوبہ بندی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جبکہ پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار کاروباری اداروں کو اضافی غیر یقینی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مرکزی بینک کا حالیہ فیصلہ محض موجودہ مہنگائی کے بارے میں تشویش کا اظہار نہیں بلکہ اس خدشے کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بیرونی معاشی دباؤ مستقبل میں قیمتوں پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
مرکزی بینک نے شرحِ سود بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
شرحِ سود مرکزی بینکوں کے پاس مہنگائی پر قابو پانے کے اہم ترین معاشی وسائل میں سے ایک ہے۔
جب اسٹیٹ بینک بنیادی شرحِ سود میں اضافہ کرتا ہے تو مالیاتی نظام میں قرض حاصل کرنے کی لاگت عمومی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ تجارتی بینک بھی اس کے مطابق اپنے قرضوں کی شرحِ سود میں تبدیلی کرتے ہیں، جس سے کاروباری اداروں اور گھرانوں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے۔
قرضوں کی بلند لاگت مجموعی طلب کو معتدل کرنے، قیمتوں پر دباؤ کم کرنے اور مستقبل میں مسلسل مہنگائی کی توقعات کو محدود رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم جب مہنگائی کے بنیادی اسباب ملکی معیشت کے بجائے بیرونی حالات سے پیدا ہوں تو زری پالیسی کی افادیت کی کچھ حدود بھی سامنے آتی ہیں۔
شرحِ سود میں اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں براہِ راست کم نہیں کر سکتا، متاثرہ بحری راستوں کو بحال نہیں کر سکتا اور نہ ہی بین الاقوامی سیاسی تنازعات ختم کر سکتا ہے۔
ایسے حالات میں سخت زری پالیسی کا بنیادی مقصد بیرونی قیمتوں کے جھٹکوں کو ملکی معیشت میں وسیع اور مستقل مہنگائی میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ امتیاز نہایت اہم ہے۔ شرحِ سود میں اضافے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ بین الاقوامی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور آیا توانائی و نقل و حمل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات دیگر اشیا اور خدمات تک بھی پھیلتے ہیں۔
مہنگائی اب بھی مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے زیادہ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 10.3 فیصد رہ گئی، جبکہ اگست میں یہ تقریباً 11 فیصد تھی۔
اس کمی کے باوجود مہنگائی مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے لیے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
درآمدی توانائی کی بلند قیمتوں کے ساتھ ملک میں گندم کی فراہمی سے متعلق مشکلات نے بھی مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
زری پالیسی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی مستقبل کی مہنگائی سے متعلق توقعات کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا رجحان معیشت کے دیگر شعبوں تک پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کمیٹی کے دس میں سے نو ارکان نے شرحِ سود بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کی، جس کا اطلاق 27 اکتوبر سے ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے بھی تسلیم کیا کہ مہنگائی کو مقررہ ہدف کے اندر واپس لانے میں پہلے کے اندازوں سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔
یہ صورتِ حال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کے لیے قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنا محض قلیل مدتی مالیاتی فیصلوں کا معاملہ نہیں بلکہ مسلسل اور مربوط معاشی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔
معاشی بحالی کو ایک نئے امتحان کا سامنا
شرحِ سود میں اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان اپنی بتدریج معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مرکزی بینک نے جون 2027 میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی برقرار رکھی ہے، جبکہ گورنر نے تقریباً 3.7 فیصد کی مرکزی شرحِ نمو کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہے گا۔
مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں۔
یہ معاشی اشاریے کسی حد تک اطمینان فراہم کرتے ہیں، تاہم ان کی موجودگی طویل علاقائی کشیدگی اور عالمی معاشی بے یقینی سے پیدا ہونے والے خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔
صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے شرحِ سود میں اضافہ ایک اضافی مالی چیلنج پیدا کرتا ہے۔
بینکوں سے قرض حاصل کرنے والے اداروں کو مشینری کی خریداری، پیداواری صلاحیت میں توسیع اور روزمرہ کاروباری ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
عام گھرانوں کے لیے بھی صارفین کے قرضے مہنگے ہو سکتے ہیں، جبکہ کاروباری ادارے قرضوں کی لاگت میں کمی کے انتظار میں سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر سکتے ہیں۔
ان اثرات کا دائرہ انفرادی قرض داروں تک محدود نہیں رہتا۔ نجی سرمایہ کاری میں سست روی روزگار کے مواقع، صنعتی توسیع اور مجموعی اقتصادی بحالی کی رفتار کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
معاشی استحکام کے لیے صرف شرحِ سود کافی نہیں
پاکستان کی موجودہ زری پالیسی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محض شرحِ سود پر انحصار کافی نہیں۔
مرکزی بینک قرض گیری اور ملکی طلب پر اثرانداز ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی مضبوطی کے لیے برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت کی بہتری، توانائی کے مؤثر استعمال اور قابلِ اعتماد سرکاری مالیاتی انتظامات بھی ضروری ہیں۔
زری پالیسی کمیٹی نے بھی مالیاتی اور بیرونی معاشی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کے ساتھ ساختی اصلاحات جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ معیشت کو آئندہ بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جائے، تاکہ ہر نئے بین الاقوامی بحران کے جواب میں ہنگامی معاشی اقدامات کی ضرورت کم سے کم ہو۔
شرحِ سود میں حالیہ اضافہ محض زری پالیسی کا ایک معمول کا فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی کمزوریوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ملکی معاشی امکانات اب بھی عالمی توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سیاسی و سلامتی کی صورتِ حال سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اقتصادی ترقی کے لیے ضروری سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو متاثر کیے بغیر مہنگائی پر قابو پا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف مرکزی بینک کے آئندہ فیصلوں میں نہیں بلکہ حکومت کی اس صلاحیت میں پوشیدہ ہے کہ وہ معاشی اداروں کو مضبوط بنائے، قومی پیداواری استعداد میں اضافہ کرے اور ملکی معیشت کو بار بار پیدا ہونے والے بیرونی بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اور دیرپا اصلاحات نافذ کرے۔
پاکستان کو ایسی معاشی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو قیمتوں کے استحکام اور اقتصادی ترقی کو ایک دوسرے کے متضاد مقاصد سمجھنے کے بجائے پائیدار معاشی خوش حالی کے باہم مربوط ستونوں کے طور پر اختیار کرے۔









