امریکہ اور سعودی عرب نے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مملکت کو شہری مقاصد کے لیے جوہری پروگرام تیار کرنے کی اجازت ملے گی۔ امریکی محکمۂ توانائی نے اسے “پرامن جوہری تعاون کا معاہدہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے جوہری توانائی کے شعبے میں نمایاں رسائی حاصل ہوگی۔
اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی منظرِ عام پر نہیں آئیں، تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میں سعودی عرب کو مستقبل میں یورینیم افزودہ (Enrich) کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ صلاحیت بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن اسی ٹیکنالوجی کو جوہری ہتھیار بنانے میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہوا تو یہ امریکی پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی ہوگی اور خطے میں جوہری پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
اس معاہدے کے ساتھ دونوں ممالک نے ایک حفاظتی (Safeguards) معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کے بارے میں امریکی محکمۂ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں دستاویزات کئی دہائیوں پر محیط اربوں ڈالر کی شراکت داری کی قانونی بنیاد فراہم کرتی ہیں، جس کا مقصد جوہری عدم پھیلاؤ، اقتصادی تعاون اور تزویراتی مفادات کو فروغ دینا ہے۔ سعودی حکومت نے اسے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل قرار دیا ہے، جو گزشتہ سال نومبر میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے واشنگٹن کے دورے کے بعد مزید مضبوط ہوا۔
اہم بات یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے لیے سعودی عرب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی وہ شرط عائد نہیں کی جو ماضی میں امریکی پالیسی کا اہم حصہ رہی تھی، اور جسے اب بظاہر خاموشی سے ترک کر دیا گیا ہے۔
ایران تنازع کے تناظر میں معاہدہ
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر حملوں کا جواز تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو قرار دیا تھا، اگرچہ ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔
سعودی عرب کا مؤقف بھی ماضی میں مشروط رہا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 میں کہا تھا کہ اگر ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کیے تو سعودی عرب بھی جلد از جلد اسی راستے پر چلنے پر مجبور ہوگا۔
اعلان ایسے وقت میں بھی سامنے آیا جب ایران سے وابستہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جبکہ سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔
یورینیم افزودگی کا حساس معاملہ
اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سابقہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی سے تعمیر ہونے والی تنصیبات میں اپنے ملک کے اندر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس سے امریکی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے تجارتی مواقع حاصل ہوں گے۔
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ یہ معاہدے جوہری تحفظ اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا کی جدید ترین جوہری ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں گے۔
تاہم کئی جوہری ماہرین اور سابق اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ انتظام مستقبل میں سعودی عرب کے لیے جوہری ہتھیاروں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اگرچہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں اور عالمی برادری کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
کانگریس کی منظوری درکار
اب یہ معاہدہ امریکی کانگریس میں جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں کے بعض ارکان اس کی مخالفت کریں گے، تاہم ریپبلکن پارٹی کی اکثریت کے باعث اس کے منظور ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کبھی بھی ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جس سے جوہری پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو۔ دوسری جانب ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے صدر ٹرمپ اور روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کو جوہری عدم پھیلاؤ کے نام پر جائز قرار دیتے ہوئے ایک آمرانہ ریاست کو حساس جوہری ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔
اگر سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ معاہدہ 2009 کے امریکہ۔متحدہ عرب امارات جوہری معاہدے سے مختلف ہوگا، جس میں ابوظہبی نے اپنے ملک میں یورینیم افزودہ نہ کرنے اور اضافی پابندیاں قبول کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
بعض ماہرین اس پیش رفت کو تشویشناک نہیں سمجھتے۔ سابق امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن باب میک نیلی کے مطابق امریکہ کا مختلف ممالک کے ساتھ محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں سول جوہری پروگراموں کی ترقی میں تعاون کا مثبت ریکارڈ موجود ہے۔
اب کیوں؟
سعودی عرب کئی برسوں سے ایسے معاہدے کا خواہاں تھا، تاہم ماضی میں واشنگٹن نے اسے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر رکھا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب روس اور چین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے تعاون پر بات چیت کر رہا تھا، جس کے باعث امریکہ نے یہ موقع اپنے حریفوں کے ہاتھ جانے سے بچانے کی کوشش کی۔
یہ معاہدہ سعودی عرب کے لیے ایک بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے اور طویل المدت بنیادوں پر مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے، اگرچہ اس کے اثرات فوری طور پر سامنے آنے کا امکان نہیں۔









