عید الفطر میٹھی عید

ہر ایک قوم کا، ہر مذہب کا اپنا ایک تہوار ہے جسے اس کے ماننے والے جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ دین اسلام چوں کہ دین متین ہے اس نے بھی اپنے ماننے والوں کو عید کی صورت میں تہوار عطا کیے ہیں اور ساتھ ساتھ حدود و قیود بھی مقرر کر دیئے ہیں تاکہ مسلمان جان لیں کہ وہ عام نہیں بلکہ خاص حیثیت کی حامل قوم ہیں۔

عید ایک ایسا تہوار ہے جو مسلمان معاشرے کی یکجہتی اور انفرادیت کی عکاسی کرتا ہے، لفظ عید کا مشتق بھی عود ہے جس کے معنی ہے لوٹنا۔ ہر سال یکم شوال المکرم کو یہ تہوار لوٹ کر آتا ہے جس میں مسلمان اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں مناتے ہیں، صدقات و خیرات کرتے ہیں۔

قرآن کریم میں عید کا ذکر

قرآن کریم کے پارہ نمبر 2 ، سورة البقرة آیت نمبر 185 میں عید کا ذکر اس طرح آیا ہے کہ ” روزوں کی گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی۔” دوسری جگہ پارہ نمبر 11 سورہ یونس کی آیت نمبر 58 میں ہے کہ “تم فرماؤ اللہ عزوجل کے فضل اور اسکی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔

ایک اور جگہ سورة المائدة آیت نمبر 114 میں ہے کہ “عیسٰی ابن مریم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے اللہ، ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں، پچھلوں کے لیے (بطور) عید (یادگار) قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔” اللہ کریم نے عید الفطر بھی اس کی پاکی بیان کرنے اور اس فضل کے خوشی کا اظہار کرنے کے لیے مقرر فرمائی ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا۔

تاریخی پس منظر

عید کا رواج ہر قوم ، ہر ملت اور ہر دور میں رہا لیکن سب کا انداز اور سب کا طریقہ مختلف رہا لیکن منشا ایک ہی تھا اور وہ اللہ کریم کے فضل کا شکر کرنا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت کا دن ان کے بعد آنے والوں نے عید کے طور پر منایا، اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا دن وہ مقرر ہوا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آتش نمرود سے نجات ملی۔ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کے عید کا دن وہ ٹھہرا جب انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی۔حضرت عیسی علیہ السلام کی قوم من و سلوی کے اترنے والے دن عید مناتی تھی۔

عید الفطر کا آغاز کب اور کیسے؟

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم جب مدینہ تشریف لائے تو (دیکھا کہ) وہاں کے لوگ دو دن کھیل تماشے میں گزارتے تھے۔ حضور نبی اکرم نے دریافت فرمایا کہ یہ دن کیا ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایام جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسول الله نے فرمایا: ”الله تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو ایام: یوم الاضحی اور یوم الفطر عطا فرمائے ہیں۔”(سنن ابی داؤد کتاب الصلوة)

لیلة الجائزة

یہ وہ رات ہے جسے عرف عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس رات انعام و اکرام کی برسات ہوتی ہے لہذا خود کو غفلت سے بچاتے ہوئے عبادت میں مصروف رہیں۔ اس رات کی فضیلت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا:”جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت کی نیت سے قیام کرتا ہے، اس کا دل اس دن بھی فوت نہیں ہوگا جس دن تمام دل فوت ہوجائیں گے۔” (سنن ابن ماجہ)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا:”جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ وہ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذو الحجہ، نو ذوالحجہ (یعنی عید الاضحیٰ)، دس ذوالحجہ، عید الفطر اور پندرہ شعبان کی رات (یعنی شبِ برات)۔”(الترغیب والترہیب)

روزے کی پاکی

صدقہ فطر روزے کی پاکی کا ذریعہ ہے کہ جو کوتاہی یا کمی بیشی ہوئی اس کو دور کردے اور اس کا حکم اسی سال واجب ہوا جس سال رمضان کے روزے فرض کیے گئے یعنی 2 ہجری میں۔ اس کا ادا کرنا ہر صاحب حیثیت پر واجب ہے تاکہ مسلمان غرباء و مساکین بھی اس خوشی میں شامل ہوسکیں۔

Pl, subscribe to the YouTube channel of republicpolicy.com

صدقہ فطر کی مقدار

صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے گندم یا اس کا آٹا یا ستو آدھا صاع، منقٰی یا جو یا اس کا آٹا یا ستو ایک صاع۔ موجودہ دور کے مطابق ایک صاع سوا دو سیر گندم یعنی دو کلو پینتالیس گرام گندم کا ہے۔

آداب عید الفطر

نماز عید سے پہلے کچھ کھا لینا:حصرت سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب تک کچھ کھا نہ لیتے، عید گاہ کو تشریف نہ لے جاتے۔(سنن الترمذی)

نماز عید میں جلدی کرنا

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجران میں حکم دیا:”عید الاضحی کی نماز جلدی ادا کرو اور عید الفطر کی نماز دیر سے ادا کرو اور لوگوں کو وعظ سناؤ۔’ (سنن ابن ماجہ)

ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا

حضرت سیدنا ابو ہریرة رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز عید کے لیے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے۔” (سنن الترمذی)

عید کا دن ہر جائز طریقے سے خوشی منانے کا نام ہے۔ موجودہ دور میں کوویڈ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے عزیز و اقارب ان سے جدا ہوگئے لیکن پھر بھی عید کے دن رب کریم کا شکر کرتے ہوئے گزاریں اور اس کے فضل و احسان کو یاد رکھیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos