ترک وزرائے خارجہ و دفاع پاکستانی اور سعودی حکام کے ساتھ علاقائی صورتحال اور سہ فریقی اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے پر بات چیت کریں گے
استنبول: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس 5 اکتوبر کو ریاض میں ہوگا، جس میں بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی کی صورتحال اور سہ فریقی اتحاد کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے میں ہونے والی پیش رفت پر غور کیا جائے گا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے اجلاس کی تصدیق کی ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، بالخصوص یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کی جانب سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
حوثی بحران پر بات چیت متوقع
ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں حوثیوں کے ساتھ ممکنہ سیاسی رابطے پر بھی غور کیے جانے کی توقع ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران نے حوثیوں سے منسوب حالیہ حملوں کے بعد یمنی گروپ کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔ توقع ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک ریاض اجلاس کے دوران اس تجویز پر بھی غور کریں گے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں حالیہ علاقائی پیش رفت کے ساتھ ساتھ اتحاد کے ادارہ جاتی نظام کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اعلیٰ ترک حکام اجلاس میں شریک ہوں گے
ترکی کی نمائندگی وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اوغلو کریں گے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام بھی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
یہ مذاکرات تین ملکی دفاعی انتظام کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اور اہم پیش رفت ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب یمن اور حوثیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں سلامتی کے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
اس طرح ریاض اجلاس میں ایک جانب فوری علاقائی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا جائے گا، جبکہ دوسری جانب مکہ دفاعی اتحاد کے سیاسی اور دفاعی رابطہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط اور باقاعدہ بنانے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔









