اسلام آباد، 24 ستمبر: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ڈرون ذخیرہ کرنے اور حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل افغان سرزمین سے پاکستان پر ڈرون حملے کی کوشش کے بعد کی گئی۔
یہ کارروائی دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ سرحد پار عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی خراب ہیں۔ رواں سال فروری میں اسی تنازع کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی شدید ترین لڑائی ہوئی تھی، جبکہ رواں ماہ تشدد کے نئے واقعات نے مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند افغان سرزمین سے سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ پاکستان مخالف جنگجوؤں کو پناہ نہیں دیتی اور عسکریت پسندی پاکستان کا داخلی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
افغانستان سے آنے والے ڈرون تباہ کر دیے گئے، پاکستان
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بدھ کو افغانستان سے روانہ کیے گئے ڈرونز کا سراغ لگایا اور ان کی نگرانی کرتے ہوئے انہیں ناکارہ بنا دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوئی بھی ڈرون اپنے مقررہ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ان کے مطابق پاکستان نے اس کے بعد حملے کی کوشش سے منسلک 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائیاں کیں۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی صرف ان فوجی اہداف تک محدود رکھی گئی جن کی نشاندہی ڈرونز ذخیرہ کرنے اور انہیں روانہ کرنے کے مقامات کے طور پر کی گئی تھی۔
وزیر اطلاعات نے خبردار کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے کسی مزید اشتعال انگیز اقدام کا پاکستان مضبوط اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
افغان حکام کی خوست میں پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق
افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے جنوب مشرقی صوبے خوست کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گربز نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
افغان حکام کی جانب سے یہ تصدیق پاکستان کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا تھا کہ کارروائی میں گزشتہ روز کے ڈرون حملوں سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان میں مہلک حملے کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ
دونوں ممالک کے درمیان تازہ کشیدگی گزشتہ ہفتے شمال مغربی پاکستان میں پولیس کی ایک تنصیب پر ہونے والے حملے کے بعد بڑھی، جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس واقعے نے تقریباً تین ماہ کے نسبتاً پُرسکون عرصے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوبارہ لڑائی کو ہوا دی۔
رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں فضائی کارروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
افغان طالبان حکام نے پاکستان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اسلام آباد پر الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین پر رات کے وقت کیے گئے حملوں میں تین شہری ہلاک ہوئے۔
مارچ میں کابل پر حملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا باعث
رواں سال مارچ میں تنازع کا ایک انتہائی مہلک واقعہ اس وقت پیش آیا جب کابل پر پاکستانی فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
افغان طالبان حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ حملے میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے یہ الزام مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کارروائی میں فوجی تنصیبات اور عسکریت پسندوں کی معاونت کے لیے استعمال ہونے والے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ فضائی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ سرحد پار سلامتی، عسکریت پسندوں کی مبینہ پناہ گاہوں اور فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔









