پاکستان کے عدالتی نظام کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین کتاب

[post-views]

[post-views]

ایک دفعہ کا ذکر ہے سندھ ہائیکورٹ میں راؤ انوار کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو بری کرتے ہوئے، بہت دلچسپ ریمارکس دیئے۔ جج صاحبان نے لکھا کہ سکیورٹی ادارے اپنی تحقیق پائیدار طریقے سے پوری نہیں کرسکی، جس کی بناء پر ملزمان کے خلاف شواہد ثابت نہیں کیے جاسکے۔ چوں کہ جس معاملے میں شک کی گنجائش ہو، اس کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے۔ اس لیے عدم شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔

ایک برطانوی عدالتی نظام جو آج پوسٹ کلونیل ریاستوں میں موجود ہے۔ جس میں ایک جج ہوتا ہے، اور پراسیکیوٹر اور ڈیفینڈر کیس چلاتے ہیں۔ جج کا دائرہ کار اور سوچ اس مکالمے تک موجود ہے، جس میں فریقین ان کے سامنے شواہد رکھتے ہیں۔ جج آزادنہ کوئی تحقیق یا شواہد شامل نہیں کرسکتا۔

طارق محمود اعوان نے اپنی کتاب میں موجودہ عدالتی نظام کی ایک تاریخ قلم بند کی ہے۔

کتاب کے ابتدائی مطالعے سے میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ کلونیل عدالتی نظام اس ملک کے لیے ہے ہی نہیں۔ جہاں تحقیق کرنے والے ادارے مثلاً فرانزک سائنس یا پولیس کا نظام ابھی پختہ نہیں۔ جہاں اعتماد کا نظام یا سچ کا معیار (جھوٹی گواہی وغیرہ) شامل ہیں

ایک قاضی یا پنچایت والا نظام اصلاحات کے ساتھ زیادہ بہتر اور کارامد ثابت ہوسکتا ہے۔

مصنف کی کتاب کا باب نمبر دوم

Alternative Dispute Resolution (ADR)

قانون کے ہر طالب کو پڑھنا چاہیے۔

کتاب منگوانے کے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں

0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]