بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

سکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی، آٹھ شدت پسند ہلاک

[post-views]
The Love Affair Between Armed Forces and Pakistani Public is Critical for Pakistan. Therefore it is critical that the constitutional roles be adopted.
[post-views]

کارروائی میں تین اہم کمانڈر بھی مارے گئے، اسلحہ، گولہ بارود اور غیر ملکی کرنسی برآمد، سرکاری میڈیا

ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا، سرکاری ریڈیو پاکستان نے اتوار کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق اس گروہ سے تھا جسے ریاست فتنہ الخوارج قرار دیتی ہے۔ پاکستانی حکام یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ شدت پسندوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں ہلاک ہونے والے آٹھ شدت پسندوں میں تین اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ غیر ملکی کرنسی بھی برآمد کی گئی۔

کارروائی عزمِ استحکام مہم کا حصہ

ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاعات پر مبنی یہ کارروائی پاکستان کی وسیع تر انسدادِ دہشت گردی مہم عزمِ استحکام کے تحت کی گئی۔

عزمِ استحکام کا آغاز جون 2024 میں ملک بھر میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ریاستی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو بروقت اور مؤثر قرار دیتے ہوئے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مبینہ طور پر غیر ملکی سرپرستی اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے سرگرم دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کو بدستور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا

یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خیبر پختونخوا کو مسلسل سلامتی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور حالیہ برسوں کے دوران صوبے میں شدت پسند حملوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ خیبر پختونخوا میں اگست کے دوران دہشت گردی کے 54 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی۔

اس طرح ایک ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی تازہ کارروائی صوبے میں شدت پسند سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے جاری انسدادِ دہشت گردی کوششوں کا حصہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]