گھانا کے فلمی پوسٹر، تخیل اور فن کا حسین امتزاج

[post-views]
[post-views]

گھانا میں ہاتھ سے بنائے جانے والے فلمی پوسٹر، جو کبھی مقامی فلمی تشہیر کا اہم ذریعہ تھے، اب عالمی سطح پر نایاب فن پاروں کے طور پر پسند کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ان میں سے بیشتر پوسٹر ان فلموں کی اصل کہانی سے بہت کم مشابہت رکھتے ہیں جن کی تشہیر کے لیے انہیں تخلیق کیا جاتا تھا۔

اکرا کے قریب تیشی کے علاقے میں مصور جیورس افوتو، جو ہیوی جے کے نام سے مشہور ہیں، سرخ روغنی رنگ سے آٹے کی بوری پر بنائے گئے کینوس پر ایک چاقو پر خون کے دھبے بنا رہے تھے، جبکہ اوپر کی جانب ایک کھوپڑی کا خاکہ بھی نمایاں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پوسٹر کسی خوف ناک فلم کا نہیں بلکہ بچوں کی مشہور کہانی پر مبنی متحرک فلم ننھی جل پری کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ پوسٹر میں چاقو تھامے شخص فلم کا ولن نہیں بلکہ شہزادہ ایرک ہے، جبکہ کھوپڑی کا فلم کی کہانی سے کوئی تعلق نہیں۔

ہیوی جے کہتے ہیں، “ہم لوگوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے اپنی طرف سے بہت کچھ شامل کر دیتے ہیں۔”

انیس سو ستر کی دہائی کے آخری برسوں سے لے کر دو ہزار کی دہائی کے آغاز تک ہاتھ سے بنائے گئے فلمی پوسٹر گھانا کی فلمی ثقافت کا نمایاں حصہ رہے۔ انہیں محلوں میں قائم فلمی مراکز کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، کیونکہ منتظمین نے محسوس کیا تھا کہ فلموں کے اصل پوسٹر ناظرین کو متوجہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس دور میں فلم کی اصل کہانی محض ایک ابتدائی خیال سمجھی جاتی تھی، جس پر مصور اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے مزاحیہ، حیرت انگیز اور غیر حقیقی مناظر شامل کر دیتے تھے۔ مختلف فلمی مراکز کے لیے کام کرنے والے مصور ایک دوسرے سے زیادہ مؤثر نقلی تشریح پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

دو ہزار کی دہائی کے آغاز کے بعد گھانا میں بجلی، ٹیلی وژن اور ویڈیو چلانے والے آلات عام ہونے لگے، جس کے باعث بیشتر مقامی فلمی مراکز بند ہو گئے اور مصوروں نے دوسرے شعبوں کا رخ کر لیا۔

تاہم اس وقت تک یہ پوسٹر عالمی توجہ حاصل کر چکے تھے۔ مختلف کتابوں اور بین الاقوامی نمائشوں میں انہیں پیش کیا گیا، جبکہ پرانے اور نایاب پوسٹر قیمتی نوادرات کی حیثیت اختیار کر گئے۔

اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں نئے ہاتھ سے بنائے گئے پوسٹروں کی مانگ میں کمی آئی، مگر بعد ازاں آن لائن فروخت اور مغربی ممالک میں فلمی شائقین کی دلچسپی کے باعث ان کی طلب دوبارہ بڑھنے لگی۔

اسی مقصد کے لیے قائم ایک ادارہ مقامی مصوروں کے ساتھ مل کر اس فن کو محفوظ رکھنے اور بڑھتی ہوئی عالمی طلب پوری کرنے میں مصروف ہے۔

یہ ادارہ ایک مشہور ایکشن فلم کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کے شریک بانی رابرٹ کوفی ہیں، جو بچپن میں اپنے آبائی شہر کے فلمی مراکز میں تشہیری اعلانات کیا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے فلمی پوسٹر جمع کرنے اور فروخت کرنے کا آغاز کیا اور پھر ایک امریکی ساتھی کے ساتھ مل کر اس ادارے کی بنیاد رکھی۔

ادارہ اس وقت پندرہ مصوروں کے ساتھ کام کر رہا ہے، جن میں ہیوی جے بھی شامل ہیں، جو گزشتہ چار دہائیوں سے فلمی پوسٹر بنا رہے ہیں۔ ادارہ انہیں دنیا بھر کے خریداروں سے جوڑتا ہے اور تیار شدہ فن پارے مختلف ممالک بھجواتا ہے۔

رابرٹ کوفی کے مطابق زیادہ تر آرڈر امریکا سے موصول ہوتے ہیں۔ پرانی ایکشن، سائنسی تخیل اور خوف ناک فلموں کے پوسٹر سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں، جبکہ خصوصی آرڈر پر تیار کیے جانے والے ایک پوسٹر کی قیمت چھ سو امریکی ڈالر سے شروع ہوتی ہے۔

اکرا سے چند کلومیٹر دور اشیمان کے علاقے میں ایک اور مصور، بنجمن امارتی، جنہیں اسٹوگر کہا جاتا ہے، دو فلموں کے لیے پوسٹر تیار کر رہے تھے۔

رابرٹ کوفی نے ان کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ پوسٹر میں موجود دو بلیاں زیادہ خوف ناک دکھائی دینی چاہییں اور کھانے کو مزید بکھرا ہوا اور گندا بنایا جائے۔

بعد میں انہوں نے وضاحت کی، “مجھے بلیوں کے مناظر زیادہ خوف ناک چاہییں اور اسپاگیتی زیادہ بکھری ہوئی دکھائی دینی چاہیے۔”

بنجمن امارتی نے بتایا کہ وہ پہلے مجسمہ ساز تھے، مگر انیس سو بانوے میں فلمی پوسٹر بنانے کا آغاز کیا۔

ان کے بقول، “میں اپنی تخیل سے ایسے مناظر تخلیق کرتا ہوں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں اور وہ پوسٹر کو پسند کریں۔”

اشیسی جامعہ میں افریقی عوامی ثقافت کے مرکز کے سربراہ اور فلمی پوسٹروں کے مجموعہ ساز جوزف اوڈورو فرمپونگ کے مطابق ان پوسٹروں میں مبالغہ آرائی کی روایت افریقی تصورِ فن سے جڑی ہوئی ہے، جس کا مقصد ایسی چیزوں کو بصری شکل دینا ہے جو نظر نہیں آتیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ ناظرین نے فلم نہیں دیکھی ہوتی، اس لیے مصور اپنی تخیل سے ایسے عناصر شامل کرتے ہیں جو اصل فلم میں موجود نہیں ہوتے، اور یہی انداز ان پوسٹروں کو سنسنی خیز بنا دیتا ہے۔

بعض اوقات یہ تخلیقی آزادی مصوروں کے لیے مشکلات بھی پیدا کرتی تھی۔ رابرٹ کوفی نے ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انیس سو نوے کی دہائی میں انہیں اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب لوگوں نے ایک فلم دیکھنے کے بعد محسوس کیا کہ پوسٹر میں دکھایا گیا ایک خونریز منظر فلم میں موجود ہی نہیں تھا۔

اکرا کے قومی ثقافتی مرکز میں اس وقت ایسے درجنوں رنگا رنگ ہاتھ سے بنائے گئے فلمی پوسٹر آویزاں ہیں، جو اس منفرد فن کی یادگار سمجھے جاتے ہیں۔

رابرٹ کوفی کہتے ہیں، “ہم ایک روایت کو محفوظ رکھ رہے ہیں۔ ہم اپنی تاریخ کو محفوظ رکھ رہے ہیں۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]