درآمدات پر انحصار: پاکستان کا وہ زرعی بحران جسے حل کرنے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے

[post-views]
[post-views]

ظفر اقبال

ایک قوم کے لیے ایک خاص قسم کی شرمندگی ہوتی ہے جب وہ اپنے ہی عوام کو کھانا فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے۔ پاکستان ہر گزرتے مالیاتی دور کے ساتھ اسی شرمندگی کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے، مگر اس ناکامی کے ذمہ دار سیاسی طبقات اس حقیقت سے نظریں چرانے میں مصروف ہیں۔ حالیہ غذائی تجارت کے اعداد و شمار کسی ابہام کے بغیر ایک واضح کہانی بیان کرتے ہیں۔ یہ ایسے ملک کی تصویر پیش کرتے ہیں جس کے پاس زراعت کی وسیع صلاحیت موجود ہے، مگر وہ اسے مسلسل ضائع کر رہا ہے اور اپنی بنیادی غذائی ضروریات بھی بیرونِ ملک سے درآمد کرنے پر مجبور ہے، حالانکہ یہی اجناس وہ اپنے ملک میں آسانی سے پیدا کر سکتا ہے۔

صورت حال کی شدت پر غور کریں۔ موجودہ مالی سال کے صرف نو ماہ کے دوران پاکستان کا غذائی درآمدی بل سات ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی غلطی یا وقتی خرابی نہیں، نہ ہی یہ کسی ایک فصل کی ناکامی یا غیر معمولی موسم کا نتیجہ ہے۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط پالیسی غفلت کا تسلسل ہے، جو سال بہ سال بڑھتی رہی یہاں تک کہ اب یہ ایک ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں تقریباً نصف افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے، وہاں خوراک کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار بڑھنا ایک سنگین پالیسی ناکامی ہے۔

اس صورتحال کو مزید مشکل بنانے والی بات یہ ہے کہ درآمد کی جانے والی اشیاء بنیادی غذائی ضرورت سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان چینی، خوردنی تیل اور دالیں درآمد کر رہا ہے۔ یہ کسی لگژری یا غیر معمولی اشیاء نہیں بلکہ عام پاکستانی گھروں کی روزمرہ خوراک کا حصہ ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں زمین، موسم اور محنت سب کچھ موجود ہے، ان بنیادی اجناس کی کمی دراصل قدرت کا مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی کا مسئلہ ہے۔

اس بحران کی جڑیں ایک محدود اور غیر متوازن زرعی پالیسی میں پیوست ہیں جو کئی نسلوں سے بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے جاری ہے۔ پالیسی کا زیادہ تر زور چند بڑی فصلوں جیسے گندم، کپاس، گنا اور مکئی پر رہا ہے۔ ان فصلوں کی اپنی اہمیت ضرور ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ انہیں غیر متوازن ترجیح دی گئی۔ سبسڈی، امدادی قیمتوں اور پانی کی تقسیم نے ایک ایسی ترجیحی ترتیب پیدا کی جس نے دیگر فصلوں کو نظرانداز کر دیا۔ کسان ہمیشہ اس فصل کی طرف جاتے ہیں جس میں انہیں فائدہ نظر آئے۔ نتیجتاً تیل دار اجناس اور دالوں کی پیداوار مسلسل کمزور ہوتی گئی، اور وہی شعبے آج سب سے زیادہ درآمدی انحصار کا شکار ہیں۔

یہ بحران کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ خود پیدا کیا گیا مسئلہ ہے۔ کسی ملک نے پاکستان پر یہ پالیسی مسلط نہیں کی کہ وہ تیل دار اجناس کو نظرانداز کرے اور خوردنی تیل کی درآمد بڑھاتا چلا جائے۔ یہ فیصلے اندرونی سطح پر کیے گئے، بار بار کیے گئے، اور ان کے نتائج کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ کسانوں کو نہ مناسب سہولت دی گئی، نہ مالی رسائی، نہ جدید تکنیک اور نہ ہی مضبوط مارکیٹ کا نظام فراہم کیا گیا۔

دوسری طرف برآمدات میں بھی واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ پیداوار کی کمزوری، معیار کی غیر مستقل صورت حال اور ویلیو ایڈیشن کی کمی نے عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت کو متاثر کیا ہے۔ ملک اب بھی خام زرعی اجناس برآمد کرتا ہے جبکہ دنیا بھر میں پروسیس شدہ اور برانڈڈ مصنوعات زیادہ قیمت حاصل کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ زرعی شعبہ نہ تو مطلوبہ زرمبادلہ کما پا رہا ہے اور نہ ہی درآمدی دباؤ کو کم کر پا رہا ہے۔

اگر یہی رجحان جاری رہا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی زراعت پر دباؤ ڈال رہی ہے، پانی کی کمی بڑھ رہی ہے، شدید گرمی فصلوں کو متاثر کر رہی ہے، اور بڑھتی ہوئی آبادی خوراک کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ بھی ایک مستقل خطرہ ہے۔ ایسے میں ایک کمزور معیشت مسلسل بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو برداشت نہیں کر سکتی۔

چاول کے شعبے میں بہتری یہ دکھاتی ہے کہ اگر پالیسی درست ہو تو نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بہتر بیج، نجی سرمایہ کاری اور مؤثر سپلائی چین نے پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کیا۔ یہی ماڈل تیل دار اجناس اور دالوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی غیرمعمولی معجزے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف پالیسی کی درست سمت درکار ہے۔

یہ اصلاح اس سچائی کے اعتراف سے شروع ہونی چاہیے کہ موجودہ زرعی نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اس نے نہ غذائی تحفظ دیا، نہ برآمدی طاقت پیدا کی، اور نہ ہی کسانوں کو غربت سے نکالا۔ اس اعتراف کے بعد ہی پالیسی میں حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔

آگے کا راستہ واضح ہے: فصلوں میں تنوع، جدید زرعی تحقیق، نجی شعبے کی شمولیت اور مضبوط مارکیٹ نظام۔ پاکستان کے پاس وسائل موجود ہیں، مگر اب تک اس نے انہیں درست سمت میں استعمال نہیں کیا۔ اصل کمی وسائل کی نہیں، سیاسی عزم کی ہے۔ اور یہی وہ عزم ہے جو اب فوری طور پر درکار ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos