نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی نے منگل کے روز کہا کہ نیویارک سٹی کے پاس اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار نہیں، تاہم انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹِ گرفتاری پر عمل درآمد کرے۔
ممدانی، جو منصب سنبھالنے کے بعد سے اسرائیلی حکومت کے کھلے ناقد رہے ہیں، اس سے قبل کہہ چکے تھے کہ وہ یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئیں تو آیا انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم منگل کو انہوں نے وضاحت کی کہ اس نوعیت کی گرفتاری کا اختیار شہری انتظامیہ کے بجائے وفاقی حکام کے پاس ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل کرے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر غزہ میں “نسل کشی” کا الزام بھی عائد کیا، جسے اسرائیلی حکومت نے دوٹوک انداز میں مسترد کر رکھا ہے۔
یہ بیان نیتن یاہو کے خلاف میئر کے مؤقف میں مزید شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ممدانی اس سے قبل بھی انہیں جنگی مجرم قرار دے چکے ہیں۔ ان کے حالیہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیویارک سمیت عالمی برادری اس سوال سے دوچار ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے آئی سی سی کے جاری کردہ وارنٹ کے ساتھ کیسے نمٹا جائے، جبکہ نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکا اپنے شہریوں پر عدالت کے دائرۂ اختیار کو تسلیم کرتے ہیں۔
یہ معاملہ نیویارک کی مقامی سیاسی قیادت، جہاں اسرائیل سے باہر دنیا کی بڑی یہودی آبادیوں میں سے ایک آباد ہے، اور اسرائیلی حکومت کے غزہ میں جاری فوجی آپریشن کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ جب بین الاقوامی قانون اور خارجہ پالیسی جیسے معاملات آپس میں جڑ جائیں تو بلدیاتی حکومت کے اختیارات محدود ہو جاتے ہیں، کیونکہ ایسے امور روایتی طور پر وفاقی حکومت اور امریکی محکمۂ خارجہ کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔
آئی سی سی کے وارنٹ کے اجرا کے بعد بھی نیتن یاہو کئی مرتبہ امریکا کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے کانگریس سے خطاب کیا اور وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں بھی کیں، مگر انہیں گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ امریکی حکومت کے اس مستقل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اس وارنٹ پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی اسرائیلی حکام پر آئی سی سی کے اختیار کی سخت مخالف رہی ہے اور ماضی میں اس مقدمے سے وابستہ عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں بھی عائد کر چکی ہے۔
ممدانی کے حالیہ بیانات سے نیویارک کی سیاسی فضا میں اس بحث کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کہ آیا میئر کو ایسے خارجہ پالیسی کے معاملات پر مؤقف اختیار کرنا چاہیے جو ان کے آئینی اختیارات سے باہر ہیں، اگرچہ ان کا یہ مؤقف ان کے سیاسی حامیوں کے ایک ایسے حلقے میں پذیرائی بھی حاصل کر رہا ہے جو غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی قیادت کے خلاف زیادہ سخت احتسابی اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔









