پاکستان نے بدھ کے روز بھارت کو خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے سے نئی دہلی اپنی معاہداتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اس کے پاس ’’تمام سفارتی اور غیر سفارتی آپشنز‘‘ موجود ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ بھارت اپنی سہولت کے مطابق بین الاقوامی قانون کا سہارا نہیں لے سکتا اور جب کوئی فیصلہ اس کے حق میں نہ آئے تو اسے مسترد نہیں کرسکتا۔ انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ 1960 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی طرف واپس آئے۔
نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل اپنی آخری بریفنگ میں طاہر اندرابی نے کہا، ’’بھارت کی جانب سے فیصلے کو مسترد کرنا سندھ طاس معاہدے کے تحت اس کی ذمہ داریوں کو نہ ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی طور تبدیل کرسکتا ہے۔‘‘
مستقل ثالثی عدالت نے یکم ستمبر کے اپنے فیصلے میں ایک مرتبہ پھر واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل اور فریقین پر لازم ہے۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کی کوشش کو مسترد کردیا تھا۔ پاکستان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنے دیرینہ مؤقف کی توثیق قرار دیا کہ دریائے سندھ کے پانیوں سے متعلق تنازعات کو معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی حل کیا جانا چاہیے۔
بھارت کی جانب سے فیصلے کو مسترد کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ ایسا طرزعمل بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور تنازعات کے عالمی حل کے طریقہ کار کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار بہنے والے پانیوں کا یکطرفہ انتظام خاص طور پر تشویش ناک ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان اس فیصلے پر آئندہ کارروائی کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے وسیع تر معاملے پر بھی تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔‘‘
طاہر اندرابی نے کہا کہ معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے طریقہ کار کی مکمل پیروی کی گئی اور چونکہ بھارت اس عمل میں شریک رہا ہے، اس لیے اب وہ خود کو اس کے نتیجے سے الگ نہیں کرسکتا۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
ایران اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی پر بات کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے حالیہ حملوں کے تبادلے کو ایسے تنازعات میں کشیدگی اور جوابی کارروائی کے وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت کو ثالثی کی کوششوں کی ناکامی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ الگ بات چیت کی۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی آبنائے ہرمز کے معاملے سمیت بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں 25 اگست کو تہران کا دورہ کیا تھا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ فریقین بالآخر مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے۔ ان کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان قطر مشترکہ اعلامیہ تکنیکی سطح سمیت مذاکرات کی بحالی کے لیے ممکنہ خاکہ فراہم کرسکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات مسترد کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ کشیدگی کے دوران دیے جانے والے بیانات کو لازمی طور پر سفارت کاری کے حتمی انکار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے انہوں نے کہا، ’’اس کے زندہ، مردہ یا نیم مردہ ہونے کا کوئی سوال نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی فریقین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کریں گے، یہ خاکہ اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا کے نئے اقتصادی اقدامات سے ایران کے ساتھ اپنی دوطرفہ تجارت پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ معاہدے کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا کہ تینوں ممالک نے اس فریم ورک کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
اس کی تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہوا، جہاں تینوں ممالک نے علاقائی امن، استحکام، کشیدگی میں کمی اور اجتماعی دفاع کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی عرب میں ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی ابتدائی طور پر تین سال کے لیے ایک پاکستانی سیکرٹری جنرل کرے گا۔ تینوں ممالک دفاعی صنعتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بھی بڑھائیں گے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو اس معاہدے میں شمولیت کے لیے کسی دوسرے ملک کی جانب سے کسی باضابطہ درخواست کا علم نہیں، اگرچہ متعدد مسلم اکثریتی ممالک کی دلچسپی سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ فرضی مستقبل کے تنازعات سے متعلق قیاس آرائیوں کے بجائے معاہدے کے اصل مندرجات اور مقاصد پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔
افغانستان
افغانستان کے بارے میں طاہر اندرابی نے کہا کہ نئی سفارتی سرگرمیوں، جن میں ارومچی عمل کو بحال کرنے کے لیے چین کی کوششیں بھی شامل ہیں، کے باوجود پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
افغانستان کے لیے چین کے خصوصی نمائندے سفیر یو شیاؤیونگ نے 31 اگست سے یکم ستمبر تک اسلام آباد کا دورہ کیا اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سفیر محمد صادق کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان چین کی تعمیری اور مسلسل سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں پیش رفت کا انحصار طالبان حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور افغان سرزمین سے سرگرم دیگر گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات پر ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘‘
ترجمان کے مطابق پاکستان کابل سے تحریری اور قابل تصدیق یقین دہانیاں چاہتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان سفیر سردار احمد شکیب کی حالیہ شرکت کی اہمیت کو بھی کم کرتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی علامت کے بجائے ایک تعلیمی سرگرمی قرار دیا۔
طاہر اندرابی نے کہا، ’’افغانستان کے ساتھ روابط کے حوالے سے کسی ایسے فیصلے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ تعلقات میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار طالبان حکام کی جانب سے یقین دہانیوں اور ٹھوس اقدامات پر رہے گا۔









