بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

بھارتی حکومت نے نوجوان مظاہرین کے وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر مزید مہلت مانگ لی

[post-views]
[post-views]

بھارت کی نوجوانوں پر مشتمل جن زی عوامی تحریک کے رہنماؤں نے جمعہ کو بتایا کہ حکومت نے ان کے بنیادی مطالبے، یعنی امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، پر جواب دینے کے لیے ہفتہ کی دوپہر تک مہلت طلب کی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے بعد سامنے آئی۔

یہ مذاکرات سماجی کارکن سونم وانگچک کی جانب سے چھبیس روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہوئے، جس سے تعطل کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی۔ رواں ہفتے ہزاروں نوجوان مظاہرین وزیرِ تعلیم کی برطرفی کے مطالبے کے لیے نئی دہلی میں جمع ہوئے تھے۔ یہ تحریک 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو درپیش نوجوانوں کی سب سے بڑی عوامی مزاحمت بن چکی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے پارلیمان کے مون سون اجلاس میں مسلسل رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

جمعہ کے مذاکرات میں وفاقی وزرا جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے حکومت کی نمائندگی کی، جبکہ جن زی عوامی تحریک کی جانب سے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا شریک ہوئے۔ تحریک کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے سے کم کسی بات پر اتفاق نہیں ہوگا اور خبردار کیا کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔ آشوتوش رانکا نے صحافیوں کو بتایا، ’’حکومت نے اس نکتے پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک مہلت مانگی ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیرِ تعلیم یا تو برطرف کر دیے جائیں گے یا خود استعفیٰ دے دیں گے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔ جے پی نڈا نے مذاکرات کو خوشگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہفتہ کی دوپہر دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا ہے تاکہ تحریک کے تین بنیادی مطالبات پر بات چیت جاری رکھی جا سکے۔

وزیرِ تعلیم کے استعفے کے علاوہ تحریک کا مطالبہ ہے کہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں اور ان طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے جنہوں نے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مئی میں امتحانی پرچے افشا ہونے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ مذاکرات کے باوجود تحریک نے پیر کے روز پارلیمان کی جانب مارچ کے دوران پولیس تشدد کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی بھی اپیل کر رکھی تھی۔

ہزاروں مظاہرین اب بھی نئی دہلی کے جنتر منتر میں موجود مرکزی احتجاجی مقام پر جمع ہیں، جبکہ مغربی بنگال، تلنگانہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طلبہ اور کارکنان وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہیں اور بعض علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے پارلیمان میں بھی یہی مطالبہ دہرایا، جس کے باعث ایوان جمعہ کو بھی کوئی کارروائی کیے بغیر ملتوی کر دیا گیا۔

یہ تحریک ابتدا میں چند سو نوجوانوں کی ایک آن لائن طنزیہ مہم تھی، مگر مئی میں قومی طبی داخلہ امتحان کا پرچہ افشا ہونے اور تقریباً بیس لاکھ طلبہ کے متاثر ہونے کے بعد اس نے لاکھوں نوجوانوں کی حمایت حاصل کر لی۔ پیر کے روز دسیوں ہزار مظاہرین نے پابندی کے باوجود پارلیمان کی جانب مارچ کیا، جہاں پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تحریک کی تیز رفتار مقبولیت نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور بار بار امتحانی پرچوں کے افشا ہونے پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاس ہے۔ دہلی میٹرو انتظامیہ نے جمعہ کو مرکزی دہلی اور اس کے اطراف کے سترہ اسٹیشن بند کر دیے، جبکہ حکومت نے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش بھی آدھی رات تک بڑھا دی۔ حکام نے عدالت میں احتجاجی مقام پر پولیس نگرانی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی مقامات پر، جہاں ریاست کا جائز مفاد موجود ہو، رازداری کا حق مطلق نہیں ہوتا۔

حالیہ احتجاج نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں حالیہ برسوں کے دوران حکومتوں کے خاتمے کا سبب بننے والی نوجوانوں کی عوامی تحریکوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اگرچہ بھارت میں اگلے عام انتخابات اپریل 2029 میں متوقع ہیں، تاہم اگلے سال اتر پردیش، مودی کی آبائی ریاست گجرات اور پنجاب میں ہونے والے اہم صوبائی انتخابات پر اس بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کے نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]