جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے پیر کے روز سابق صدر یون سک یول کو 2022 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران جھوٹے بیانات دینے پر انتخابی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اٹھارہ ماہ قید کی سزا سنائی، تاہم اس سزا کو تین برس کے لیے معطل کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ یون سک یول کے لیے ایک اور بڑا قانونی دھچکا ہے، جن کی سیاسی تنزلی مختصر مدت کے لیے نافذ کیے گئے مارشل لا کے بعد مرحلہ وار سامنے آئی۔ انتخابی قانون کی خلاف ورزی کا مقدمہ ان بیانات سے متعلق تھا جو انہوں نے 2022 کی انتخابی مہم کے دوران دیے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض سیاسی بیانات نہیں بلکہ جان بوجھ کر کہی گئی غلط باتیں تھیں۔
چونکہ سزا معطل کر دی گئی ہے، اس لیے یون سک یول کو فوری طور پر جیل نہیں جانا پڑے گا۔ تاہم اگر وہ آئندہ تین برس کے دوران کوئی اور جرم کرتے ہیں یا اپیل کے نتیجے میں فیصلہ اس انداز میں تبدیل ہو جاتا ہے کہ سزا برقرار رہے، تو انہیں قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات صرف سابق صدر تک محدود نہیں رہیں گے۔ اگر اپیلوں کے تمام مراحل کے بعد بھی سزا برقرار رہتی ہے تو ان کی جماعت عوامی طاقت جماعت کو قومی انتخابی کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد ادا کیے گئے انتخابی اخراجات کی مد میں موصول ہونے والی انتالیس ارب ستر کروڑ وون کی رقم واپس کرنا پڑ سکتی ہے، جو تقریباً ستائیس اعشاریہ ایک ملین ڈالر کے برابر بنتی ہے۔
اس مالی پہلو نے اس مقدمے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے، کیونکہ اس کا اثر نہ صرف یون سک یول کی ذاتی قانونی حیثیت بلکہ ان کی جماعت کی مالی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر فیصلہ برقرار رہتا ہے تو 2022 کے صدارتی انتخاب سے وابستہ اخراجات کی ایک بڑی رقم واپس کرنا لازم ہو سکتا ہے۔
عہدہ چھوڑنے کے بعد سے یون سک یول کو متعدد قانونی مقدمات کا سامنا ہے، جن میں ان کے مختصر دورانیے کے مارشل لا سے متعلق کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ پیر کے روز آنے والا یہ فیصلہ ان کے خلاف قانونی فیصلوں میں ایک اور اضافہ ہے، تاہم مقدمہ اب بھی اپیل کے مراحل سے گزرے گا اور اس کے مالی یا دیگر قانونی اثرات حتمی عدالتی فیصلے کے بعد ہی نافذ ہوں گے۔









