ناصر عباس نیر
وہ تحریریں جنھیں آپ نے گزرے برسوں میں وقتاً فوقتاً موبائل اسکرین پر پڑھا ہو، جن تحریروں نے طرح طرح کے اوقات میں آپ کو ایک حوصلے، ٹھہراؤ اور ایک اور طرح سے جینے کا احساس دلایا ہو، ان تحریروں کو ایک کتاب میں یکجا دیکھنا ، انھیں دوبارہ پڑھنا مختلف تجربہ تھا۔
پہلے پڑھی ہوئی تحریریں دوبارہ پڑھی جائیں تو یکسانیت کا احساس دلاتی ہیں یا پھر پہلے سے زیادہ گہرائی کا احساس ۔
ہم ہر بار “پرانے” متن سے ، اپنے آپ سے نئے سرے سے ملتے ہیں۔ متن وہی ہوتا ہے، ہم بھی وہی ہوتے ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ متن ہمارے لیے وہ متن ہوتا ہے اور نہ ہی ہم اپنے لیے وہ ہم رہ جاتے ہیں۔ ہم ہر بار متن کو ایک ہی فکر ، ایک ہی نگاہ سے نہیں پڑھتے۔ ہر بار متن بھی ہم سے ایک ہی طرح سے نہیں ملتا۔ ہماری فکر و نگاہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہے۔ یہ فکر و نگاہ متن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بعینہ ، بہ ظاہر بے جان؛ مگر حقیقت میں جان دار متن بھی ہماری فکرو نگاہ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ آدمی کی نگاہ اور متن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو جذب کرتے ہیں یا پھر ایک دوسرے کو پرے دھکیلتے ہیں۔ نیر کی تحریریں ، پہلی ہو یا دوسری قرات ، مجھے اپنے آپ میں جذب کرتی ہیں۔
آدمی جاگتے ہوئے بھی عام طور پر کم ہی جاگنے کا تجربہ کرتا ہے۔ فکر اور احساس دونوں سطحوں پر۔ کچھ پڑھتے ، خاص طور لکھتے ہوئے آدمی کو زیادہ جاگنا نصیب ہوتا ہے۔ لکھنے والے شاید اسی لیے لکھتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ جاگ کر گزار سکیں۔ سوشل میڈیا پر نیر صاحب کی طرح طرح کے موضوعات پر مبنی تحریریں پڑھتا تھا تو سوچتا تھا یہ شخص کتنا جاگا شخص ہوا شخص ہے۔ اب جب کہ ان کی تمام تحریروں کو یکجا دیکھنے کا موقع ملا تو یہ خیال اور زیادہ محسوس ہوا کہ وہ کس قدر جاگے ہوئے شخص ہیں۔ ادب، زبان، تاریخ، انسان، دنیا و سماج کا کوئی مسئلہ، کوئی دکھ ہو، وہ اس میں پورے احساس سے شریک ہوتے ہیں۔ بہ طور انسان ، بہ طور ادیب دنیا کے ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھنا، اس پر لکھنا وہ اپنی انسانی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ نیر ادیب ہیں۔ انھیں ادب اور آرٹ کی دنیا عزیز ہے۔ اس کتاب میں اگرچہ بیشتر تحریریں زبان، ادب، شاعری ، فکشن اور تنقید سے متعلق ہیں؛ مگر کئی تحریریں سماجی و عالمی مسائل ، جنگ، قتل، جنس، مذہب، جگہ ، ماحول، قدرتی و زمینی آفتوں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بھی ہیں۔ چند تحریریں ادیبوں اور سماجی فلاح کاروں سے بچھڑ جانے کی یاد میں لکھی گئیں ؛ جبکہ چند تحریروں کا موضوع انسانی نفسیات، انسان کی منفرد ذات اور اخلاقیات ہے۔ اہم پہلو یہ کہ یہ تمام تحریریں ایک ادیب کے قلم سے لکھی گئی تحریریں ہیں۔ اسی لیے یہ کہیں سے میکانکی نہیں ہیں۔
اگرچہ یہ کتاب نیر صاحب کی نئی، ایک مختلف کتاب ہے۔ اس کتاب میں لکھی تحریروں کے کئی ذائقے ہیں۔ مثلاً کہیں علمی ، کہیں تنقیدی، کہیں تاثراتی، کہیں سوانح، کہیں یاد، کہیں آپ بیتی، ڈائری، کہیں فکشن اور کہیں فلسفہ و شاعری کا رنگ۔ مگر مجموعی طور اس کتاب کا محسوساتی رشتہ ان کی کتابوں: “ہائیڈل برگ کی ڈائری” ، ان کے افسانوں ، “نئے نقاد کے نام خطوط”، اور “میرا داغستان جدید” کے قریب محسوس ہوتا ہے۔
ان کی کتاب سے چند ٹکڑے ، جن کے نیچے اس لیے خط کھینچ لیے تھے کہ جب کبھی یہ کتاب دوبارہ کھولوں تو ان ٹکڑوں کو پڑھ سکوں جنھوں نے کبھی زندگی کا احساس دلایا تھا:
” ذاتی زندگی ، اور مختلف قوموں میں دشمن کے بارے میں مختلف تصورات ہو سکتے ہیں۔ تاہم امبر ٹو ایکو کے مطابق دو خصوصیات ایسی ہیں ، جو غالبًا تمام دشمنوں میں پائی جاتی ہیں: فرق اور خطرہ۔ جو ہم جیسا نہیں ، اور جس سے ہمیں خطرہ ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ایک تیسری خصوصیت بھی ہے، اور وہ ہے ، اپنی ناکامیوں کی زمہ داری سے بچنے کے لیے کسی تخیلی ہدف کی تلاش۔ “
” آج اگر کوئی واقعی سچ ہے تو یہ کہ “ہم فیکٹ سے زیادہ گھڑی سچائیوں کے عہد میں زندہ ہیں۔”
” ابلاغ کی زبان سب کچھ مستعار لیتی ہے۔ یہ اپنی اصل میں طفیلی ہوتی ہے۔”
” یہ مقام حیرت و عبرت ہے کہ ادیب ، لکھنے پڑھنے کی مسرت ، ادب اور دنیا کے تعلق پر خامہ فرسائی یا سخن کے بجائے ، محض مسند کی آرزو کرنے لگیں۔”
” ایک حقیقی مصنف اس لیے لکھتا ہے کہ ان آوازوں کو سنا جا سکے جو پہلی بار آپ کے توسط سے اپنا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔”
” مطالعہ بہت کرو اور جب لکھنے بیٹھو تو اچھا لکھنے سے زیادہ دیانت داری سے لکھنے کی کوشش کرو۔”
” مغربی جدیدیت نے تصادم ہی میں انفرادیت دیکھی۔ ہم آہنگی کی مدد سے بھی منفرد ہوا جا سکتا ہے۔”
” ہم دوسروں کو سمجھنے سے زیادہ، ان کے بارے میں حکم لگانے کی غلطی کرتے ہیں۔ جسے پوری طرح سمجھا نہ جا سکے ، اس پر حکم لگانا ظلم ہے۔”
” ایک سچائی یہ ہے کہ ہر ایک کو خود سچائی تک پہنچنا ہے۔”
” رحم اور تاسف سے خالی دل ، کیا واقعی انسانی دل ہوا کرتے ہیں ؟”
“ہجوم میں سب سے اہم چیز جو منہا ہوتی ہے، وہ فرد ہے۔ فرد ، شعور ذات، انفرادی رائے اور زمہ داری کے احساس کا حامل شخص ہوتا ہے۔”
” شک کرنے والا متشدد نہیں ہو سکتا ۔ متشدد ہونے کے لیے اندھا یقین درکار ہے۔”
” عورت کے جسم کو قابو کرنا آسان ہے ، ذہن و دل کو نہیں.”
” کم از کم رسمی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کتابوں کا انتخاب ، اتنا ہی اہم فیصلہ ہوتا ہے ، جتنا یہ فیصلہ کہ آدمی کو زندہ رہنا ہے یا خود کشی کرنی ہے۔ زندہ رہنے کا فیصلہ ایک طویل راستے کا انتخاب ہے۔”
” یہ سچ ہے ، نہایت کڑا سچ کہ جب کوئی شخص، خواہ وہ ہمیں کتنا ہی پیارا ہو، آخری سفر شروع کرتا ہے تو ہم دہشت زدہ ہو جاتے ہیں اور اپنی جانب لوٹ آتے ہیں، اپنی اصل کی جانب اور اپنی ظلمت کی جانب۔”
” دوسروں کی مانند سوچنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ کوئی واقعی سوچنے والا شخص ، دوسروں کی مانند کبھی نہیں سوچ سکتا۔ “
” سب کو خوش کرنے کی کوشش بزدل ہی کرتے ہیں۔ بزدلی میں کیا گیا کوئی عمل ، اخلاقی اہمیت کا حامل کیسے ہو سکتا ہے!”
” اپنی زندگی ، اپنے “گھر” ہی میں بسر کی جا سکتی ہے، کسی اور گھر میں ، نہ کسی کی قید میں۔”
” آدمی اپنے اندر، اپنی ہی بنائی ہوئی جگہ میں قیام کر سکتا ہے۔”
” آزادی کا خوف ، دراصل خود فیصلہ کرنے اور اس کے نتائج قبول کرنے کا خوف ہے۔ خود کو دوسروں ، یعنی خود سے طاقتوروں کے سپرد کرنا ہمیشہ سے آسان رہا ہے۔”
” جب ساری دنیا آدمی سے رخ موڑ لے ، یہ دانائی آدمی کا ہاتھ پکڑے رہتی ہے۔ اپنے ہی تجربات سے اخذ کی گئی دانائی ، زندگی کے پرشور سمندر میں آدمی کا واحد، قابل اعتبار لنگر ہے









