اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی ختم کرنے کا حکم

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر دو درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ان کا نمٹارا کر دیا اور اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ دونوں قیدیوں میں سے کسی کو بھی الگ تھلگ نہ رکھا جائے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے چھ اگست سے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ یہ آئینی درخواستیں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا نے دائر کی تھیں۔ عدالت نے حکومت کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بیگم نصرت بھٹو بنام چیف آف آرمی اسٹاف اور بیگم شمیم آفریدی بنام حکومتِ پنجاب کے مقدمات کی روشنی میں فیصلہ دیا کہ قیدی کے بنیادی حقوق جیل کے دروازے پر ختم نہیں ہو جاتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قیدی کی فلاح و بہبود میں براہِ راست دلچسپی رکھنے والے قریبی رشتہ داروں کو بیرونی افراد شمار نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتی حکم کے مطابق، عمران خان اس وقت القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کے مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ دیگر دو مقدمات میں ان کی سزائیں اپیلوں کے فیصلے تک معطل ہیں۔

متضاد موقوفات

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو روزانہ تقریباً بائیس گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے جبکہ بشریٰ بی بی کو چوبیس گھنٹے مکمل طور پر الگ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس کے مطابق قیدِ تنہائی کی وجہ سے سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد تک متاثر ہوئی ہے۔

حکومتی اور جیل حکام نے قیدِ تنہائی کے الزامات کو مسلسل مسترد کیا۔ قومی احتساب بیورو کے وکیل اور دیگر حکومتی وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ اڈیالہ جیل میں قیدِ تنہائی کا کوئی وجود نہیں ہے، اور عمران خان کو ان کی سیاسی حیثیت اور سابق وزیراعظم ہونے کے ناطے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر الگ رکھا گیا ہے اور انہیں ملنے والی سہولیات بی کلاس سے بھی زیادہ ہیں۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے ایک رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ عمران خان کسی ایک کوٹھڑی میں بند نہیں ہیں بلکہ انہیں سات کوٹھڑیوں پر مشتمل ایک احاطے تک رسائی حاصل ہے جہاں وہ دن کے وقت نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ جیل عملے اور ایک قیدی مشقتی سے بات چیت کرتے ہیں، طبی معائنہ کراتے ہیں، اور انہیں ہر منگل کو اپنی اہلیہ سے ملاقات کی اجازت ہے۔

تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ عام قیدیوں تک ان کی رسائی شدید طور پر محدود ہے جس سے ان کا معاشرتی رابطہ متاثر ہوتا ہے۔

طبی شواہد

جسٹس سومرو نے جیل انتظامیہ کی جانب سے جمع کرائی گئی طبی رپورٹس پر انحصار کیا۔ یکم اگست کی ایک طبی رپورٹ میں عمران خان کے بلڈ پریشر میں توازن نہ رہنے، گھبراہٹ اور بے چینی کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کی وجہ خاندانی و سماجی ملاقاتوں کی کمی اور اخبارات و ٹیلی ویژن کی عدم دستیابی بتائی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے ملاقاتوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی تھی۔

اس کے بعد دس اگست کو ماہرین کے ایک طبی بورڈ نے بھی ان کی ذہنی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی، اخبارات، کتب، ٹیلی ویژن کی فراہم اور اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی سفارش کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ محدود ملاقاتیں قیدی کی جسمانی و ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

عدالت کی ہدایات

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو درج ذیل ہدایات جاری کیں:

  • بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔
  • میاں بیوی کو جیل کے قوانین کے مطابق ملاقات کی اجازت دی جائے۔
  • اہل خانہ سے ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے اور عمران خان کو ان کے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دی جائے، تاہم اگر ان کالز کی ریکارڈنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔
  • قیدی کو روزانہ اخبارات اور کتب فراہم کی جائیں، اور کسی کتاب کو صرف اس کے علمی، مذہبی یا فکری موضوع کی بنیاد پر نہ روکا جائے جب تک وہ قانوناً ممنوع نہ ہو۔
  • قیدی کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ چہل قدمی اور ورزش کے لیے دیا جائے اور طبی بورڈ کی سفارشات کے مطابق ایک کام کرتا ہوا ٹیلی ویژن فراہم کیا جائے۔

جسٹس سومرو نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سیکیورٹی تدابیر ملاقاتوں کو منظم تو کر سکتی ہیں لیکن انہیں بالکل ختم نہیں کر سکتیں، اور سیکیورٹی کو انسانی روابط سے مکمل محرومی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد اٹھارہ اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، طبی بورڈ کی تشکیل اور اہل خانہ کو رسائی دینے سے متعلق اپنے احکامات جاری کیے تھے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالتی احترام کا تقاضا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات سے متصادم کوئی حکم جاری نہ کرے، لہٰذا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی کسی بھی آئندہ ہدایت کے تابع رہے گا۔

اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ پندرہ دنوں کے اندر جج کے چیمبر میں جمع کرائیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]