جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ کے نام سے جس کارروائی کا اعلان کیا تو انہوں نے یہ اشارہ دیا کہ واشنگٹن اب ان ممالک سے چشم پوشی نہیں کرے گا جو ایران کے ساتھ تجارت اور کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔
تاہم دبئی کا جائزہ لینے سے اس کے برعکس تصویر سامنے آتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اس اہم تجارتی مرکز میں ایرانی کاروباری سرگرمیاں، جو کئی دہائیوں سے باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کے ذریعے گہری جڑیں رکھتی ہیں، بڑی حد تک بلا رکاوٹ جاری ہیں اور بظاہر امریکہ کی تازہ دھمکیوں سے بھی متاثر نہیں ہوئی ہیں۔








