اسلام آباد ہائی کورٹ نے پتوکی کے مرحوم اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد کی تدفین کے تقریباً ایک سال بعد ان کی میت کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ فرقان احمد کو اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔
جسٹس شاہرُخ ارجمند نے ہفتے کے روز فرقان احمد کے والد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ ان کے والد اپنے بیٹے کی موت کے حالات اور اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے قانونی کارروائی کرتے رہے ہیں۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو 10 روز کے اندر پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فرقان احمد 31 اگست 2025 کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد ایک ریسٹ ہاؤس میں انتقال کر گئے تھے۔ بعد ازاں ان کی موت کے حالات اور اصل وجہ کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آئے، جس کے باعث یہ معاملہ ان کے اہل خانہ کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنا رہا۔
عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ اس حقیقت پر کوئی تنازع نہیں کہ فرقان احمد کی تدفین اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں ہوئی تھی۔ لہٰذا میت کو قبر سے نکالنے اور اس کے بعد طبی و قانونی معائنے کا معاملہ اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام، فرقان احمد کے والد یا ان کے مجاز نمائندے اور قصور سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ پتوکی کے اسسٹنٹ کمشنر کی موت کو محض ایک انتظامی تنازع قرار نہیں دیا جا سکتا، بالخصوص اس صورت میں جب ان کی موت کی اصل وجہ سے متعلق سوالات اب تک حل طلب ہیں۔
فیصلے کے مطابق فرقان احمد کی موت کو تقریباً ایک سال گزر چکا ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے اب تک ان کی موت کے حالات کے بارے میں کوئی واضح اور تسلی بخش جواب سامنے نہیں آیا۔
توقع ہے کہ دوبارہ پوسٹ مارٹم فرقان احمد کی موت کی اصل وجہ معلوم کرنے اور گزشتہ سال اگست سے موجود غیر حل شدہ سوالات کے جواب تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔









