• یمنی عہدیدار کے مطابق دو جنوب مغربی صوبوں میں 23 سرکاری فوجی ہلاک
• حوثیوں کا سعودی فضائی حملوں اور زمینی لڑائی میں 40 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ
ریاض: حوثیوں، یمنی حکومتی فورسز اور ان کے سعودی اتحادیوں کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں 68 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دونوں جانب کے فوجی ذرائع نے جمعرات کو فرانسیسی خبر رساں ادارے کو ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
یمنی حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق دو جنوب مغربی صوبوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 23 سرکاری فوجی ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب حوثی فوجی ذرائع نے بتایا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں میں ان کے 40 جنگجو مارے گئے۔
یمن کی خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد حوثیوں، یمنی حکومتی فورسز اور سعودی عرب کے درمیان پرتشدد کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سعودی عرب نے رواں ہفتے حوثیوں پر مقدس شہر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
اس سے قبل دونوں جانب سے شہری ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ سعودی حکام کے مطابق مکہ مکرمہ کے مشرق میں واقع طائف کے اوپر ایک ڈرون کو روکے جانے کے بعد اس کا ملبہ نیچے گرنے سے سعودی عرب میں مقیم ایک یمنی شہری ہلاک ہو گیا۔
حکام نے بتایا کہ طائف میں تباہ کیے گئے ڈرون کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
حالیہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سعودی عرب کے اندر یہ پہلی ہلاکت تھی۔ سعودی سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری مناظر میں دکانوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے اور تباہ شدہ شیشوں والی گاڑیاں دکھائی گئیں۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام المسیرہ ٹیلی وژن نے کہا کہ ان حملوں میں تین بچے ہلاک ہوئے جن کی ذمہ داری اس نے ’’سعودی حمایت یافتہ اجرتی جنگجوؤں‘‘ پر عائد کی۔ حوثی اس اصطلاح کو یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
حوثیوں نے الگ سے صوبہ تعز میں مواصلاتی تنصیبات پر فضائی حملوں کی اطلاع دی، جبکہ عبس قصبے میں ایک شہری کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع سامنے آئی۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق جاری تشدد کے باعث اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
بحری گزرگاہوں کو خطرہ
حوثیوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے بحیرۂ احمر سے ملحق پورے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس پیش قدمی کے جواب میں سعودی جنگی طیاروں نے سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔
حوثیوں نے بدھ کو سعودی عرب کا ایک ایف-15 جنگی طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا۔ گروپ نے ایسی فوٹیج جاری کی جس میں جنگجو ایک دھواں اٹھتے ہوئے جائے حادثہ پر سعودی نشانات والے طیارے کا ملبہ دکھا رہے تھے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ سعودی عرب یمن کی ناکہ بندی اور قبضہ ختم کرے اور ان کے خلاف اپنی جارحیت روک دے۔
تازہ کشیدگی نے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار عالمی توانائی منڈیوں کے لیے مزید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ خطے میں وسیع جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت محدود کیے جانے کے تناظر میں باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول خلیجی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اور انتہائی اہم بحری راستے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس میں وہ راستہ بھی شامل ہے جس پر سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرنے سے بچنے کے لیے انحصار کرتا رہا ہے۔
لڑائی کے موجودہ مرحلے کا آغاز جولائی میں 2022 کی کمزور جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ہوا۔









