آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے قریب ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ، عمان نے علاقائی مذاکرات ملتوی کر دیے

[post-views]
[post-views]

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کی صبح آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے قریب ایک ایرانی مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ تہران نے حملے کا ذمہ دار ایک ’’دہشت گرد دشمن‘‘ کو قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے کے دو اہم بحری راستوں پر جہاز رانی کو لاحق خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اس حملے کے بعد ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی سلامتی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ بحیرۂ احمر میں بھی تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یمن میں حکومتی افواج کے خلاف لڑنے والے ایران کے حمایت یافتہ حوثی حال ہی میں باب المندب کے قریب ایک جزیرے پر قابض ہوگئے ہیں۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے قشم کے گورنر کے حوالے سے بتایا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ امریکی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی افواج اس سے قبل ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایرانی پرچم بردار جہازوں کو نشانہ بنا چکی ہیں، جبکہ امریکی جنگی جہازوں کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔

قشم جزیرہ ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس سے تقریباً 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے حوالے سے اہم تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔

حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی عوام کو دباؤ کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا اور ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ تہران معاہدے کا خواہش مند ہے اور مسلسل واشنگٹن سے رابطہ کر رہا ہے۔ آئرلینڈ کے علاقے ڈون بیگ میں اپنے گالف کورس پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے بعد میں پوچھا گیا کہ آیا آبنائے ہرمز میں ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ امریکا نے کیا تھا، تاہم انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔

اس دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان میں ہونے والا مجوزہ علاقائی اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایران نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ خطے کے ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کو عمان میں ملاقات کریں گے، جہاں تہران اور مسقط کی جانب سے تیار کردہ تجاویز پر تبادلۂ خیال ہونا تھا۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ وسیع تر اتفاق رائے کی خاطر مذاکرات ملتوی کیے گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ایران اور عمان نے اجلاس مؤخر کرنے پر اتفاق کیا۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام میں ترامیم پیش کی ہیں۔ ایک خلیجی عہدیدار کے مطابق ریاض کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق کسی بھی معاہدے کے خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت اب بھی نمایاں طور پر کم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل یہ آبی گزرگاہ عالمی جہاز رانی کے ایک اہم راستے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی کے ادارے نے اتوار کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو ایک میزائل نما ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ وہی جہاز تھا جس پر قشم جزیرے کے قریب حملے کی اطلاع ایران نے دی تھی۔ ادارے کے مطابق جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور مقامی حکام اس میں سوار افراد کو نکال رہے تھے۔

امریکا کا موقف ہے کہ سکیورٹی خطرات کے باوجود خلیج سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکی فوج عمان کے ساحل کے قریب جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے میں معاونت کر رہی ہے۔

عمان میں مجوزہ اجلاس ملتوی ہونے سے پہلے بھی علاقائی ممالک کی شرکت غیر یقینی تھی۔ عراق واحد ملک تھا جس نے عوامی طور پر شرکت کی تصدیق کی تھی، جبکہ بحرین نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کی بنیاد پر اجلاس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

جنگ کے ابتدائی مرحلے سے ہی ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے راہداری فیس وصول کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔ تہران نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی پانیوں سے گزریں، جبکہ باہر جانے والے جہاز ایسے راستے استعمال کریں جو جزوی طور پر ایرانی اور جزوی طور پر عمانی پانیوں سے گزرتے ہوں۔

عمان میں مجوزہ اجلاس سے خطے میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خلیجی ممالک بڑھتے ہوئے علاقائی بحران پر مشترکہ موقف اختیار کر سکیں گے۔ خلیجی ریاستیں کئی ماہ سے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہی ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف ان ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات ہیں۔

اس کشیدہ صورتحال کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ان کی ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید سے مثبت گفتگو ہوئی۔

جنگ کے دوران ایران متحدہ عرب امارات کی جانب ہزاروں میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔ پزشکیان کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد کے ساتھ گفتگو میں موجودہ تحفظات دور کرنے، ماضی کے اختلافات سے آگے بڑھنے اور مستقبل میں باہمی تعلقات بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]