خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ کی مسجد پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 15 پولیس اہلکار اور ایک چار سالہ بچہ بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد مسلح حملہ آوروں نے پولیس کی عمارت پر فائرنگ بھی کی۔
بی بی سی کی تصدیقی ٹیم کو ملنے والی ویڈیو میں جائے وقوعہ پر ملبے کے ڈھیر اور لوگوں کو زخمیوں کی مدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق بارود سے بھری گاڑی مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ایک بج کر پندرہ منٹ پر مسجد کے داخلی راستے سے ٹکرائی۔ اس وقت مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم چھ حملہ آور مارے گئے۔
پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستانی حکام تحریک طالبان پاکستان کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان 2007 میں قائم ہوئی تھی۔ یہ تنظیم اسلامی قانون کی اپنی سخت گیر تعبیر نافذ کرنا چاہتی ہے اور اس کے القاعدہ اور افغان طالبان سے روابط ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
رواں سال فروری میں پاکستانی حکام نے ملک میں ہونے والے متعدد حملوں کا ذمہ دار تحریک طالبان پاکستان کو قرار دیا تھا۔ ان میں اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والا خودکش دھماکا بھی شامل تھا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعے کے روز کہا کہ صوبے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں مسلح گروہ فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ عسکریت پسند افغانستان کی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جہاں وہ پاکستان میں حملوں کی تربیت حاصل کرتے اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
تاہم افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔









