بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

حوثیوں کا ریاض اور سعودی توانائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

[post-views]
[post-views]

یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع توانائی کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

سعودی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا۔ تاہم حکام نے مزید حملوں یا کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

اس سے قبل ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں سے سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمدورفت بھی عارضی طور پر متاثر ہوئی۔

جولائی میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے بعد پہلی مرتبہ ریاض میں فضائی حملے سے خبردار کرنے والے سائرن بجائے گئے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور پروازوں کی ممکنہ منسوخی سمیت سفری مشکلات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔

محکمے نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ سعودی عرب، خصوصاً شہری ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں سے تنازع تیزی سے شدت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی شہریوں کو خطے کے اندر یا اس کے راستے سفر کرنے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی ناکام بنا دیں۔

حوثیوں کا سعودی حملوں کے جواب میں کارروائی کا دعویٰ

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے آن لائن جاری بیان میں کہا کہ گروہ نے بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ڈرونز استعمال کرتے ہوئے ریاض کے حساس مقامات اور ساحلی شہر ینبع میں سعودی سرکاری تیل و گیس کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی یمن کے دارالحکومت صنعا پر سعودی عرب کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ صنعا اس وقت حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہے۔

اس سے قبل یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 300 حملے کیے۔

حوثی یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف خانہ جنگی میں مصروف ہیں، جسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے متعدد مرتبہ سعودی عرب کے اندر مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ رواں ہفتے گروہ نے یمن کی فضائی حدود میں سعودی لڑاکا طیارہ مار گرانے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

یمن میں لڑائی کے دوران 48 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق یمن کی خانہ جنگی کے دونوں فریقوں کے عسکری ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 48 افراد ہلاک ہوئے۔

حوثیوں کے مطابق ان کے 31 جنگجو مارے گئے، جبکہ حکومتی ذرائع نے اپنے 17 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت نے جمعے کو بتایا کہ یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ چار ہزار 796 سے تجاوز کر گئی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]