سعودی عرب کی فوجی مدد کی درخواست پر ٹرمپ تذبذب کا شکار، حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا فیصلہ مؤخر

[post-views]
[post-views]

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ دو ہفتوں سے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے ایران نواز حوثی گروہ کے خلاف فوجی کارروائی کی درخواستوں پر غور کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وہ حوثیوں پر امریکی فضائی حملوں کی منظوری دینے کے معاملے پر بار بار اپنا مؤقف تبدیل کر چکے ہیں۔

یمن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر حملوں کا حکم امریکا کو ایک نئے فوجی محاذ پر الجھا سکتا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ تاحال ختم نہیں ہو سکی اور اس کے اثرات عالمی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف واشنگٹن سے مدد طلب کی ہے۔ حوثیوں نے خطے میں عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رواں موسمِ گرما میں سعودی عرب کے ساتھ اپنی جنگ دوبارہ شروع کر دی تھی۔

انتظامیہ کے حکام کے مطابق جمعرات کو یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی فورسز کو روکنے کے لیے ایک بار پھر امریکی فوجی معاونت کی درخواست کی۔

سعودی ولی عہد مملکت کے عملاً حکمران اور ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکا کے اہم اتحادی ہیں۔

اس سے ایک روز قبل ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کے حق میں نہیں ہیں۔ تاہم محمد بن سلمان سے گفتگو کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے پینٹاگون کو حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔

اتوار کی دوپہر تک امریکی صدر ایک بار پھر اپنے فیصلے پر نظرثانی کر چکے تھے۔

انتظامیہ کے حکام کے مطابق امریکا فی الحال حوثیوں کے خلاف فضائی حملے نہیں کرے گا، تاہم مستقبل میں فوجی کارروائی کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔

حکام نے فوجی منصوبہ بندی پر بات کرنے کا اختیار نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]