واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو چین کے صدر شی جن پنگ کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کریں گے۔ دو روزہ سربراہی اجلاس کے لیے خصوصی تقریبات اور سفارتی انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم امریکہ اور چین کے درمیان موجود اہم اختلافات پر کسی بڑی پیش رفت کی توقع محدود ہے۔
شی جن پنگ ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد وائٹ ہاؤس کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ چین کے بارے میں اپنے سابقہ سخت مؤقف سے نسبتاً مختلف طرزِ عمل اختیار کر رہے ہیں، اگرچہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کئی بنیادی معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
چینی صدر کے استقبال کے لیے وائٹ ہاؤس میں خصوصی انتظامات
جمعرات کی صبح سربراہی اجلاس کا آغاز چینی صدر کے باضابطہ استقبال سے ہوگا، جس میں امریکی فوج کی جانب سے خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی۔
امریکی حکام کے مطابق استقبالیہ تقریب میں 479 فوجی اہلکار حصہ لیں گے، امریکہ اور چین کے پرچم آویزاں کیے جائیں گے، کم از کم چار فوجی بینڈ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے اور بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیارہ بھی فضائی پرواز کرے گا۔
اس شاندار تقریب کا مقصد دونوں صدور کی ملاقات کے لیے ایک نمایاں سفارتی ماحول فراہم کرنا ہے۔
تاہم سفارتی آداب اور خصوصی استقبالیہ انتظامات کے باوجود واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر اثرانداز ہونے والے اختلافات بدستور موجود ہیں۔
چین کے بارے میں ٹرمپ کے رویے میں تبدیلی کے باوجود توقع نہیں کی جا رہی کہ اس سربراہی اجلاس میں دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والے متعدد معاملات پر کوئی بڑی پیش رفت ہوگی۔
چین میں زیرِ حراست امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ کی ٹرمپ سے اپیل
سربراہی اجلاس سے قبل چین میں زیرِ حراست دو امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ان کی رہائی کا معاملہ اٹھائیں۔
امریکی حکومت ان دونوں شہریوں کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔
زیرِ حراست افراد میں زلزلہ پیما علوم کے ماہر یولن چن بھی شامل ہیں، جنہیں 2024 میں بیجنگ میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے دوران چین کے ریاستی سلامتی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔
چینی حکام نے ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا تھا۔
چین میں پیدا ہونے والے یولن چن امریکی حکومت اور فوجی اداروں کے لیے سائنسی تحقیق انجام دے چکے ہیں۔ ان کی تحقیق میں زلزلوں سے متعلق اعدادوشمار کی مدد سے شمالی کوریا کے ممکنہ جوہری تجربات کی بہتر نشاندہی اور تجزیہ بھی شامل رہا ہے۔
ان کے اہلِ خانہ اور ساتھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔
زیرِ حراست امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ کو امید ہے کہ دونوں صدور کی ملاقات ان کے مقدمات میں پیش رفت اور رہائی کے لیے سفارتی کوششوں کا موقع فراہم کرے گی۔









