رائے | عالمی معیشت
تقریباً چار دہائیوں تک عالمی معیشت کو غیر معمولی طور پر سازگار حالات میسر رہے۔ سرد جنگ کے خاتمے، دفاعی اخراجات میں کمی، بین الاقوامی تجارت کے فروغ اور کروڑوں نئے کارکنوں کی عالمی منڈی میں شمولیت نے ایک ایسا معاشی ماحول پیدا کیا جس میں قدرتی وسائل کی نسبتاً فراوانی، کم پیداواری لاگت اور افراطِ زر میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی۔ حکومتوں اور کاروباری اداروں نے یہ تصور قائم کر لیا کہ توانائی، خام مال، افرادی قوت اور تیار شدہ مصنوعات عالمی رسدی نظام کے ذریعے ہمیشہ آسانی سے دستیاب رہیں گی۔
تاہم اب وسائل کی اس نسبتاً فراوانی کا دور اختتام پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
انیس سو اسی کی دہائی کے آغاز سے لے کر دو ہزار بیس میں کورونا کی عالمی وبا کے پھیلاؤ تک عالمگیریت نے پیداواری اخراجات کم کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ توانائی اور صنعتی دھاتیں عمومی طور پر مناسب قیمتوں پر دستیاب رہیں، جبکہ نقل و حمل میں بہتری اور بین الاقوامی تعاون نے کاروباری اداروں کو مختلف ممالک میں اپنی پیداواری سرگرمیاں تقسیم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ افراطِ زر پر قابو پانے کا زیادہ تر سہرا مرکزی بینکوں کے سر باندھا گیا، لیکن ان کی کامیابی کے پیچھے عالمی سطح پر رسد کے سازگار حالات بھی کارفرما تھے۔
امن، بین الاقوامی معاشی انضمام اور نسبتاً سستے وسائل کی دستیابی نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جس میں معاشی ترقی اور قیمتوں کا استحکام بیک وقت ممکن رہے۔
لیکن آنے والی دہائیاں کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو سکتی ہیں۔
قدرتی وسائل کے حصول کے لیے عالمی مسابقت میں اضافے کے ساتھ توانائی، معدنیات اور ضروری خام مال تک رسائی مختلف ممالک کے معاشی مستقبل کا تعین کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ رسد کے وہ عالمی نظام جنہیں کبھی قابلِ اعتماد سمجھا جاتا تھا، اب جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی پابندیوں اور تزویراتی مسابقت کے باعث زیادہ غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
اس تبدیلی کے افراطِ زر، معاشی ترقی اور قومی معیشتوں کے انتظام میں حکومتوں کے کردار پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
سب سے سنگین خطرات میں سے ایک جمودی افراطِ زر کی بار بار پیدا ہونے والی صورت حال ہے، جس میں معاشی ترقی کی رفتار کمزور رہتی ہے جبکہ قیمتوں میں اضافہ جاری رہتا ہے۔ وسائل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پیداواری اخراجات میں اضافہ، عوام کی قوتِ خرید میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی پیدا کر سکتی ہیں۔ طلب میں غیر معمولی اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے افراطِ زر کے برعکس، رسد کی قلت سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو صرف سخت مالیاتی پالیسی کے ذریعے قابو کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس سے معاشی ترقی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
چنانچہ حکومتوں کو معاشی پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
توانائی کا تحفظ، اہم معدنیات تک رسائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تزویراتی ذخائر کا قیام قومی معاشی منصوبہ بندی کے زیادہ اہم عناصر بن سکتے ہیں۔ ممالک اپنے تجارتی تعلقات میں تنوع پیدا کرنے اور محدود سپلائرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
تاہم ان تبدیلیوں کے اثرات تمام ممالک پر یکساں نہیں ہوں گے۔
وہ ابھرتی ہوئی معیشتیں زیادہ خطرات سے دوچار ہوں گی جن کی آبادی بڑی لیکن قدرتی وسائل محدود ہیں۔ ان ممالک کی ترقی کا انحصار اکثر درآمدی توانائی، صنعتی خام مال اور بین الاقوامی منڈیوں میں مناسب قیمتوں پر دستیاب اشیا پر ہوتا ہے۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں یا رسد غیر یقینی ہو جاتی ہے تو ان معیشتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر، سرکاری مالیات، صنعتی مسابقت اور عوام کی قوتِ خرید پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ایسے ممالک کے لیے اصل چیلنج محض ضروری درآمدات کی دستیابی یقینی بنانا نہیں بلکہ ایسا معاشی نظام تشکیل دینا ہے جو بیرونی معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکے۔
توانائی کے ذرائع میں تنوع، وسائل کے مؤثر استعمال، مقامی پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری اور علاقائی تجارتی تعلقات کے فروغ سے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ادارہ جاتی اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ حکومتیں رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کا پیشگی اندازہ لگا سکیں اور مربوط معاشی پالیسیوں کے ذریعے ان کا مؤثر جواب دے سکیں۔
انسانی سرمایہ مستقبل میں بھی معاشی طاقت کا ایک اہم ذریعہ رہے گا، لیکن محض بڑی افرادی قوت وسائل کی مسلسل عدم دستیابی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ممالک کو اپنی آبادی کی صلاحیتوں کو تکنیکی ترقی، مؤثر اداروں اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔
بدلتا ہوا عالمی معاشی ماحول عالمگیریت کے مستقبل کے بارے میں بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ بین الاقوامی تجارت کی اہمیت برقرار رہے گی، لیکن معاشی انضمام میں تجارتی استعداد کے ساتھ سلامتی کے تقاضوں کو بھی زیادہ اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔ حکومتیں اور کاروباری ادارے رسد کے تسلسل، تزویراتی شراکت داریوں اور معاشی استحکام کو ترجیح دے سکتے ہیں، خواہ اس کے لیے زیادہ اخراجات ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔
اس تمام صورت حال کا بنیادی سبق یہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں کے معاشی حالات کو عالمی نظام کی مستقل خصوصیت نہیں سمجھنا چاہیے۔
کم افراطِ زر، نسبتاً سستی اشیا اور عالمی رسدی نظام کا بلا تعطل تسلسل ایک مخصوص تاریخی ماحول کے مرہونِ منت تھا۔ اب جب یہ ماحول تبدیل ہو رہا ہے تو معاشی پالیسیوں کو بھی نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
حکومتوں کے لیے اصل چیلنج بین الاقوامی تعاون ترک کرنا یا معاشی تنہائی اختیار کرنا نہیں، بلکہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ منڈیوں کے مؤثر کام کرنے کے لیے قابلِ اعتماد ادارے، محفوظ رسدی نظام اور وسائل کی قلت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی پالیسیاں ناگزیر ہیں۔
قدرتی وسائل سے محروم ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے یہ تبدیلی خاص طور پر فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ان کی مستقبل کی خوش حالی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ اپنی مقامی صلاحیتوں کو کس حد تک مضبوط بناتی ہیں، بیرونی معاشی انحصار میں کتنا تنوع پیدا کرتی ہیں اور ایک ایسی دنیا کے لیے خود کو کیسے تیار کرتی ہیں جہاں ضروری وسائل تک رسائی کے لیے مسابقت مسلسل بڑھ سکتی ہے۔
وسائل کی آسان دستیابی کے دور نے معیشتوں کو پیداواری استعداد اور توسیع کو ترجیح دینے کی ترغیب دی تھی۔ لیکن قدرتی وسائل کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کا نیا دور معاشی لچک، وسائل کے تحفظ اور ادارہ جاتی تیاری کو بھی یکساں اہمیت دینے کا تقاضا کر سکتا ہے۔









