ریپبلک پالیسی | قومی امور | ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء
قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ سائبر جرائم نے چار مبینہ فراڈ مراکز پر چھاپوں کے دوران ۱۱۷ لیپ ٹاپ، ۷۶ موبائل فون اور دیگر برقی آلات قبضے میں لے لیے۔
اسلام آباد: قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ سائبر جرائم نے لاہور اور کراچی میں چار مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کے دوران مزید ۸۹ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں برقی ذرائع سے ہونے والے منظم مالی فراڈ کے خلاف جاری ملک گیر مہم کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد میں ادارے کے مرکزی دفتر سے جاری معلومات کے مطابق ان کارروائیوں کا ہدف ایسے مراکز تھے جن پر غیر ملکی شہریوں کو ٹیلی مواصلات کی خدمات، موبائل فون کی جدید سہولتوں اور بینکاری معلومات حاصل کرنے کی جعلی پیشکشوں کے ذریعے دھوکا دینے کا الزام ہے۔
یہ گرفتاریاں برقی ذرائع سے ہونے والے مالی جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ واقعات مؤثر قانونی نگرانی، جدید تفتیشی صلاحیتوں اور منظم مالی فراڈ کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں۔
لاہور اور کراچی میں مربوط کارروائیاں
ادارے کے لاہور اور کراچی میں قائم علاقائی دفاتر نے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری مہم کے تحت الگ الگ چھاپے مارے۔
لاہور میں تفتیشی ٹیموں نے تین مشتبہ غیر قانونی کال سینٹرز پر کارروائی کرتے ہوئے ۴۲ افراد کو گرفتار کیا۔ ان افراد پر غیر ملکی شہریوں کو مالی دھوکا دہی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرکے انہیں ٹیلی مواصلات کے مختلف پیکیجز اور موبائل فون کی جدید سہولتوں کی پیشکش کرتے تھے۔ تفتیشی حکام کا خیال ہے کہ ان پیشکشوں کا مقصد لوگوں کو رقم ادا کرنے یا ایسی ذاتی معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کرنا تھا جنہیں مالی فراڈ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
لاہور میں کارروائیوں کے دوران حکام نے ۶۷ لیپ ٹاپ، ۵۰ موبائل فون، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر برقی آلات قبضے میں لیے۔
دوسری جانب کراچی میں ادارے نے شاہراہِ فیصل پر واقع ٹیکنالوجی پارک میں اذان انٹرپرائزز کے نام سے کام کرنے والے ایک مبینہ فراڈ مرکز پر چھاپہ مارا۔
اس کارروائی میں ۴۷ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق اس مرکز سے وابستہ افراد مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کی بینکاری معلومات دھوکا دہی سے حاصل کرتے اور بعد میں ان معلومات کو ان کی رقوم چرانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
کراچی میں چھاپے کے دوران ۵۰ لیپ ٹاپ، ۲۶ موبائل فون، ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر برقی آلات برآمد کیے گئے۔
مجموعی طور پر چاروں کارروائیوں میں ۱۱۷ لیپ ٹاپ، ۷۶ موبائل فون، دو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر متعلقہ سامان قبضے میں لیا گیا۔
ادارے کے مطابق برآمد شدہ آلات کو تکنیکی اور فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تاہم یہ الزامات ابھی تفتیش اور عدالتی فیصلے کے مراحل سے گزرنا باقی ہیں۔ محض گرفتاری کسی شخص کے جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔
مالی فراڈ اور برقی مواصلاتی نظام کا غلط استعمال
یہ کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ٹیلی مواصلات کے نظام اور برقی رابطوں کے ذرائع کو مالی دھوکا دہی کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جعلی کال سینٹرز بظاہر قانونی طور پر کام کرنے والے صارفین کی معاونت کے مراکز کا انداز اختیار کر سکتے ہیں۔ وہ معروف تجارتی خدمات اور سہولتوں کی پیشکش کرکے لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر انہیں رقم منتقل کرنے یا حساس معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
موجودہ کارروائیوں میں بھی تفتیشی حکام کو شبہ ہے کہ ٹیلی مواصلات کے پیکیجز اور موبائل فون کی جدید سہولتوں کی پیشکشوں کو ممکنہ متاثرین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
بینکاری معلومات کے مبینہ غلط استعمال سے مالی تحفظ کے مزید سنگین خطرات پیدا ہوتے ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب کسی شخص کی ذاتی مالی معلومات اس کے کھاتوں تک غیر مجاز رسائی یا رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے استعمال کی جائیں۔
اگرچہ ادارے نے غیر ملکی شہریوں کو مبینہ متاثرین قرار دیا ہے، تاہم جاری کردہ معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مجموعی طور پر کتنی رقم کا فراڈ ہوا، کن ممالک کے شہری متاثر ہوئے یا ان مشتبہ گروہوں کا مکمل تنظیمی ڈھانچہ کیا تھا۔
ان سوالات کے جواب مزید تفتیش اور قبضے میں لیے گئے برقی آلات کی تکنیکی جانچ کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔
سائبر جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ سائبر جرائم کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی کال سینٹرز اور دھوکا دہی میں ملوث مراکز کو کسی صورت کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی یا غیر ملکی شہریوں کو دھوکا دے کر مالی نقصان پہنچانے والے تمام اداروں اور افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ادارے نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع اس کی ہیلپ لائن ۱۷۹۹ پر دیں۔
تازہ گرفتاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ ادارہ مبینہ مالی جرائم کی تحقیقات میں مختلف علاقائی دفاتر کے باہمی تعاون اور برقی شواہد کے حصول کو اہمیت دے رہا ہے۔
تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حقیقی کامیابی صرف گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں جانچی جا سکتی۔ اس کا بنیادی پیمانہ قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے انفرادی ذمہ داری کا تعین، قانونی تقاضوں کے مطابق تحقیقات اور مؤثر عدالتی کارروائی ہے۔
سائبر جرائم کی تحقیقات اور ادارہ جاتی جواب دہی
یہ کارروائیاں پاکستان میں جدید مالی جرائم کی روک تھام، تحقیقات اور قانونی کارروائی کی مجموعی صلاحیت کے بارے میں بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہیں۔
برقی ذرائع سے ہونے والا مالی فراڈ عموماً کئی باہم منسلک سرگرمیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں ذاتی معلومات کا حصول، دھوکا دہی پر مبنی رابطے، رقوم کی منتقلی اور غیر قانونی آمدن کے ذرائع چھپانا شامل ہو سکتے ہیں۔
اس نوعیت کے جرائم کی مؤثر تحقیقات کے لیے محض مشتبہ دفاتر کی نشاندہی یا افراد کی گرفتاری کافی نہیں۔
اس کے لیے جدید فرانزک صلاحیتیں، مالیاتی معلومات کا تجزیہ، بینکاری اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون اور ایسے معاملات میں غیر ملکی حکام سے رابطہ ضروری ہے جہاں متاثرین یا مالی لین دین دوسرے ممالک میں موجود ہوں۔
قانونی اور انتظامی نگرانی بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
پاکستان میں ٹیکنالوجی کی قانونی صنعت، صارفین کی معاونت کے مراکز اور بیرونِ ملک خدمات فراہم کرنے والے کاروبار روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ ڈالتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جائز کاروباری سرگرمیوں اور مجرمانہ کارروائیوں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھیں۔
شفاف تفتیشی طریقۂ کار اور قابلِ اعتماد عدالتی کارروائی نہ صرف ممکنہ متاثرین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں بلکہ قانونی کاروباروں کو من مانی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی اہم ہیں۔
پاکستان کے برقی مالیاتی نظام کو محفوظ بنانے کی ضرورت
پاکستان میں برقی معیشت کے پھیلاؤ کے ساتھ مالیاتی اور تکنیکی نظام پر عوامی اعتماد کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔
اس اعتماد کا انحصار بڑی حد تک ریاست کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ مالی دھوکا دہی کو روک سکے اور اس کے ساتھ قانونی کاروباری سرگرمیوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ماحول بھی فراہم کرے۔
لاہور اور کراچی میں ہونے والی کارروائیاں مبینہ منظم مالی فراڈ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ایک اہم کوشش ہیں۔ تاہم ان کی طویل المدت اہمیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تحقیقات کے ذریعے مشتبہ گروہوں کے وسیع تر روابط، مالی فائدہ اٹھانے والے افراد اور متاثرین کو دھوکا دینے کے طریقوں کی نشاندہی کس حد تک ممکن ہوتی ہے۔
برآمد ہونے والے برقی آلات تفتیشی حکام کو اہم شواہد فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ان شواہد کی قانونی اہمیت فرانزک نتائج اور بعد کی عدالتی کارروائیوں سے متعین ہوگی۔
سائبر جرائم کی مستقل روک تھام کے لیے پیشگی قانونی نگرانی، متعلقہ اداروں کے درمیان مضبوط تعاون، عوامی آگاہی اور تفتیش کے تمام مراحل میں جواب دہی ضروری ہے۔
بنیادی چیلنج محض مشتبہ فراڈ مراکز بند کرنا نہیں بلکہ ایسا قابلِ اعتماد نظام قائم کرنا ہے جو مالی دھوکا دہی کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روک سکے، متاثرین کے حقوق کا تحفظ کرے اور پاکستان کی برقی معیشت پر عوامی اور بین الاقوامی اعتماد برقرار رکھے۔
فی الحال ادارے کی تازہ کارروائیوں کے نتیجے میں ۸۹ افراد گرفتار ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں برقی آلات قبضے میں لیے گئے ہیں۔ تاہم یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ ان تحقیقات کے نتیجے میں کتنے مقدمات میں جرم ثابت ہوتا ہے اور آیا ان کارروائیوں سے منظم مالی فراڈ کے وسیع تر گروہوں کی سرگرمیاں مستقل طور پر روکی جا سکیں گی۔









