ریپبلک پالیسی | خارجہ پالیسی اور علاقائی امور | ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء
اسلام آباد: پاکستان نے چین کے حوالے سے اپنی دیرینہ ون چائنا پالیسی کی بنیاد پر مبینہ طور پر تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ تاہم بعد میں ان کمپنیوں کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت بحال کر دی گئی۔ اس پیش رفت نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے ساتھ بین الاقوامی فضائی آمدورفت کے انتظامی معاملات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
۲۸ اکتوبر کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پہلا ملک بن گیا تھا جس نے ون چائنا پالیسی کی بنیاد پر خاص طور پر تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کی۔
رپورٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے ہوا بازی سے متعلق حکام ون چائنا پالیسی کی پابندی کرتے ہیں اور پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت صرف عوامی جمہوریہ چین کی فضائی کمپنیوں کو دی جاتی ہے، تائیوان کی کمپنیوں کو نہیں۔
اس فیصلے سے ایک اہم سوال سامنے آیا کہ عوامی جمہوریہ چین کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کی پاکستان کی پالیسی اور بین الاقوامی تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے درمیان کیا تعلق ہے۔
تائیوان کی فضائی کمپنیوں نے پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے
بلومبرگ کی جانب سے پیش کردہ پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق تائیوان کی دو فضائی کمپنیوں، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز، نے اتوار ۲۵ اکتوبر سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنا بند کر دی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے بعد دونوں کمپنیوں نے ہفتے کے اختتام پر اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کرنا شروع کر دیے تھے۔
دونوں فضائی کمپنیوں نے بلومبرگ کو اس معاملے پر کوئی تبصرہ فراہم نہیں کیا، جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن انتظامیہ نے بھی پروازوں کے راستوں میں مبینہ تبدیلیوں کے بارے میں براہِ راست کوئی وضاحت نہیں کی۔
دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کتنی پروازیں متاثر ہوئیں، متبادل راستوں کے باعث طیاروں کو کتنا اضافی فاصلہ طے کرنا پڑا یا فضائی کمپنیوں کو کتنے مالی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
تاہم بین الاقوامی پروازوں کے طے شدہ راستوں میں تبدیلی فضائی کمپنیوں کے لیے انتظامی مشکلات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً جب متبادل راستوں کے باعث پرواز کا دورانیہ، ایندھن کا استعمال یا پروازوں کے اوقات تبدیل کرنا پڑیں۔
اس لیے ان پابندیوں کے اثرات محض سفارتی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ان سے بین الاقوامی فضائی آمدورفت کے تجارتی اور انتظامی معاملات بھی متاثر ہو سکتے تھے۔
ابتدائی پابندیوں کے بعد پاکستان نے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت بحال کر دی
۲۸ اکتوبر کو اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جس سے ابتدائی پابندیوں کی صورت حال تبدیل ہو گئی۔
پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئرویز کو ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے ۲۷ مارچ ۲۰۲۷ء تک مسافر اور مال بردار پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔
ان اجازت ناموں کی تفصیلات ڈان اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیں، جبکہ بلومبرگ نے بھی بعد میں بتایا کہ تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کے حقوق بحال کر دیے گئے ہیں۔
تاہم متعلقہ دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ان اجازت ناموں کے ذریعے پہلے عائد کی گئی پابندی باقاعدہ طور پر واپس لی گئی یا پہلے سے موجود انتظامی بندوبست کی وضاحت کی گئی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے بھی پالیسی میں اس بظاہر تبدیلی کے بارے میں فوری طور پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اس پیش رفت کے بعد یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کی فضائی حدود اب بھی تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے لیے بند ہیں۔
پاکستان کی ون چائنا پالیسی اور چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات
پاکستان کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات ۱۹۵۱ء سے قائم ہیں اور وہ مسلسل عوامی جمہوریہ چین کو چین کی نمائندہ حکومت کے طور پر تسلیم کرتا آیا ہے۔
بیجنگ تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ تائیوان میں ایک الگ منتخب حکومت قائم ہے اور اس کا انتظامی نظام چین کی مرکزی حکومت سے الگ کام کرتا ہے۔ دونوں علاقوں میں ۱۹۴۹ء سے الگ الگ حکومتیں قائم ہیں۔
چین کے بارے میں پاکستان کا سفارتی مؤقف اس کے دوطرفہ تعلقات کا مستقل حصہ رہا ہے۔ تاہم فضائی حدود سے متعلق حالیہ معاملے نے واضح کیا کہ کسی حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم کرنا اور بین الاقوامی تجارتی پروازوں کے لیے اجازت نامے جاری کرنا دو الگ انتظامی اور پالیسی معاملات ہیں۔
ابتدائی پابندیاں اس لیے بھی قابلِ توجہ تھیں کہ عوامی جمہوریہ چین خود تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اپنے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ یہ منصوبہ چین کے وسیع تر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم حصہ ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی وسیع ہے اور چین پاکستان کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
اس کے علاوہ تجارت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، ٹیکنالوجی اور علاقائی سفارت کاری کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
اس کے باوجود فضائی حدود پر ابتدائی پابندیوں اور بعد میں اجازت کی بحالی سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خارجہ پالیسی کے اصول بعض اوقات بین الاقوامی نقل و حمل کے عملی اور انتظامی تقاضوں سے براہِ راست جڑ جاتے ہیں۔
فضائی حدود کی پالیسی اور سفارتی اداروں کے درمیان رابطہ
بین الاقوامی فضائی آمدورفت کا نظام واضح قوانین، قابلِ اعتماد انتظامی فیصلوں، بروقت جاری کیے گئے اجازت ناموں اور متعلقہ قومی اداروں اور فضائی کمپنیوں کے درمیان مؤثر رابطے پر منحصر ہوتا ہے۔
فضائی حدود کے استعمال سے متعلق انتظامات میں اچانک تبدیلی طے شدہ پروازوں کے راستوں کو متاثر کر سکتی ہے اور فضائی کمپنیوں کے لیے منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتی ہے، خصوصاً ان کمپنیوں کے لیے جو طویل فاصلے کی بین الاقوامی پروازیں چلاتی ہیں۔
حالیہ معاملہ اس ضرورت کو بھی واضح کرتا ہے کہ کسی ملک کے سفارتی مؤقف اور تجارتی سرگرمیوں کو منظم کرنے والے مخصوص انتظامی قواعد کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔
چین کے بارے میں پاکستان کی ون چائنا پالیسی بدستور قائم ہے۔ تاہم تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سفارتی مؤقف پر قائم رہنے کے لیے ضروری نہیں کہ ان کمپنیوں کو بین الاقوامی پروازوں کے راستوں سے خارج کر دیا جائے۔
فضائی کمپنیوں کے لیے فوری اہمیت کی حامل پیش رفت یہ ہے کہ انہیں ۲۷ مارچ ۲۰۲۷ء تک پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بحال کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب پالیسی سازوں کے لیے یہ واقعہ واضح انتظامی قواعد، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور بروقت سرکاری وضاحت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں بین الاقوامی فضائی رابطوں سے متعلق فیصلے حساس سفارتی تعلقات سے جڑے ہوں، پالیسی کی وضاحت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی مزید ضروری ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے طے شدہ سفارتی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی فضائی آمدورفت کے انتظامات میں قانونی وضاحت، تسلسل اور قابلِ اعتماد طریقۂ کار کو یقینی بنائے۔









