لاہور: ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کے زیرِ اہتمام لاہور میں منعقدہ مکالمے میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری زمین عوام کی ملکیت ہے اور اسے مخصوص مراعات یافتہ طبقات کے مفادات کے بجائے شہریوں کی اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
’’جمخانہ کلبز اور عوامی مفاد‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس مکالمے میں پنجاب اسمبلی کے ارکان، سول سرونٹس، ماہرینِ تعلیم اور کلبوں کے ارکان نے شرکت کی۔ شرکا نے قیمتی سرکاری زمین پر قائم مخصوص کلبوں کے استعمال اور جمہوری طرزِ حکمرانی پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔
مقررین نے اشرافیہ کی تفریحی سہولتوں کے لیے سرکاری زمین کی تخصیص اور استعمال پر سوالات اٹھائے اور اس بات پر گفتگو کی کہ آیا ایسے انتظامات آئینی مساوات اور عوامی جواب دہی کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
مکالمے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل ۲۵ کا حوالہ دیا گیا، جو قانون کے سامنے تمام شہریوں کی برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ عوامی امانت کے قانونی اصول پر بھی گفتگو ہوئی، جس کے مطابق ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی وسائل کا انتظام شہریوں کے اجتماعی مفاد میں کریں۔
مقررین نے واضح کیا کہ سرکاری زمین کو کسی مخصوص ادارے، محکمے یا بااثر طبقے کی ذاتی ملکیت نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے سرکاری زمین کی تخصیص، انتظام اور استعمال سے متعلق فیصلوں میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا۔
یہ مکالمہ ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کے ہفتہ وار سلسلے کا حصہ تھا، جس کا مقصد قانون سازوں، سرکاری افسران اور شہریوں کو حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق اہم مسائل پر مشترکہ گفتگو کا موقع فراہم کرنا ہے۔
مکالمے کا بنیادی نتیجہ یہ تھا کہ ریاستی وسائل کا استعمال عوامی مفاد کے تابع ہونا چاہیے اور ان کے انتظام میں شفافیت، مساوات اور جواب دہی کے اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔
ریپبلک پالیسی نے عوامی وسائل، جمہوری حکمرانی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے متعلق شواہد پر مبنی مکالمے کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی مقبول ترین کتب، جن میں اہم تصنیف ’’دی بیوروکریٹک کو‘‘ بھی شامل ہے، پاکستان بھر میں وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور دیگر معروف کتب فروش اداروں سے دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتب منگوانے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:
0341-4222501۔









