یہ دیکھنا مثبت ہے کہ آنے والے ایشیا کپ کی میزبانی کی تفصیلات پر بالآخر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کا انعقاد 31 اگست سے 17 ستمبر کیا جائے گا۔ ایشیا کپ میں صرف دو ماہ کا وقت رہ گیا ہے لیکن تاحال میچوں کے حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ میزبانی کے حقوق کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے۔
اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں ممکنہ طور پر اس فیصلے کے بعد آگے بڑھنے کے لیے اس کو مثبت انداز میں لیں گے۔ ہمارے لیے یہ اہم ہے کہ ایک بڑے ٹورنامنٹ کے میزبانی کے حقوق کو برقرار رکھا گیا کیونکہ پاکستان میں طویل عرصے کے بعد یہ کوئی پہلا بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہوگا جواپنی سرزمین پر منعقد ہو رہاہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سرزمین پر کھیلوں کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں دو طرفہ سیریز کا انعقاد کیا گیا تھا، لیکن پاکستان میں دہشت گردی اور سلامتی کے بین الاقوامی تاثر کی وجہ سے کھیلوں کے بڑے ٹورنامنٹ کی میزبانی ممکن نہیں تھی۔ منصوبہ کے تحت پورے ٹورنامنٹ کے میچز پاکستان میں ہی منعقد ہوتے تھے،لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےپاکستان میں ٹورنامنٹ کا انعقادخطرے میں پڑ گیا تھا۔پی سی بی کی کوششوں سےدرمیانی راستہ تلاش کرنے کے بعد ٹورنامنٹ کے چند میچز کا پاکستان میں انعقاد یقیناً ایک سفارتی کامیابی ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سب سے بااثر کرکٹ بورڈہے۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
بی سی سی آئی بھی اس فیصلے سے مطمئن ہوگا۔ بھارتی حکومت پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے ایسی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔ ایشیا کپ کے تمام میچز پاکستان ہونے تھے، لیکن بھارتی ٹیم کا پاکستان میں ٹورنامنٹ کھیلنے سے انکار اس سازش کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ اس معاملے میں بھارتی حکومت کی یہ حکمت عملی ناکام ہو گئی کیونکہ پاکستان اب بھی ٹورنامنٹ کا میزبان ہے۔ دوسری جانب بی سی سی آئی بھی مطمئن ہو گا کیونکہ اس نے اپنا بیانیہ برقرار رکھا اور اب اُسے ایشیاکپ میں نیوٹرل وینیوپر کھیلنے کا موقع ملے گا۔
دونوں ممالک کے اقدامات میں تضاد ہے اور یہ واضح ہے کہ اس مساوات میں اسلام آباد کی اخلاقی بلندی ہے۔ پاکستان نے بارہا سیاست کو کھیل سے ہٹانے کی کوشش کی ہے اور بھارت نے بھی ایسا دعویٰ کیا ہے،لیکن بھارت کے اقدامات اس اصول کے خلاف ہیں۔ پاکستان میں کھیلنے سے انکار سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں ہےبلکہ بھارت اس حقیقت کی وجہ سے نہیں کھیلنا چاہتا کہ وہ پاکستان ہے۔
آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔
سفارتی سطح پر پاکستان بھارت کے اس دوغلے پن کو اجاگر کر سکتا ہے اور مذاکرات اور تنازعات کے حل کے لیے کھلے پن کی تصدیق کر سکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دفاعی حکمت عملی سے ہٹیں اور بھارت کی غیر جمہوری پالیسیوں کو اجاگر کریں جو صرف خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں۔









