ادارتی تجزیہ
یورپ میں ایک خاموش مگر واضح تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ ابتدا میں یہ تبدیلی غیر محسوس تھی، لیکن اب یہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات، جو جدید مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور تزویراتی نظام کا ایک اہم ستون سمجھے جاتے ہیں، اب واضح دراڑوں کا شکار دکھائی دیتے ہیں جنہیں محض سفارتی بیانیے سے چھپانا ممکن نہیں رہا۔
ایران کے ساتھ جنگ نے وہ صورتحال پیدا کر دی ہے جو کئی دہائیوں کے تنازعات بھی پیدا نہ کر سکے تھے۔ اس نے یورپ کو اپنے مؤقف پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ برسلز نے اسرائیل کی لبنان میں کارروائی کی باضابطہ مذمت کی ہے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، جو عموماً اعتدال پسند مؤقف رکھتے ہیں، نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو دراصل زمینی الحاق قرار دیا ہے۔ اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے تل ابیب کے ساتھ دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ یہ مؤقف کسی حاشیائی سیاسی آواز کا نہیں بلکہ مغربی سیاسی دھارے کے اندر سے ابھرنے والے اشارے ہیں۔
اب ایک نہایت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ یورپی یونین کے شہریوں کی جانب سے ایک پٹیشن جس پر دس لاکھ سے زائد دستخط موجود ہیں، اس حد کو عبور کر چکی ہے جو قانونی طور پر یورپی یونین کو اسرائیل کے ساتھ ہونے والے ایسوسی ایشن معاہدے پر باضابطہ نظرثانی کا پابند بناتی ہے۔ یہ معاہدہ وہ تجارتی ڈھانچہ ہے جو اربوں یورو کی تجارت کو سہارا دیتا ہے اور اسرائیل کو یورپی منڈیوں تک خصوصی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی ممکنہ نظرثانی محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور ساختی نوعیت کی تبدیلی ہے، جو معیشت اور پالیسی دونوں سطحوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ معاہدہ برسوں سے اسرائیل کے لیے یورپ میں ایک طرح کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے، ایک ایسا تحفظ جس کے تحت زمینی حالات چاہے جیسے بھی ہوں، اقتصادی تعلقات برقرار رہتے تھے۔ اب یہ ضمانت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو چکی ہے۔
جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ ایک سیاسی احتساب ہے۔ یورپی عوام کے رجحانات تبدیل ہو رہے ہیں اور سیاسی قیادتیں ان کے پیچھے چل رہی ہیں۔ پرانا اصول، کہ اسٹریٹجک شراکت داری اخلاقی یا سیاسی رویے سے بالاتر رہتی ہے، اب عملی طور پر قابلِ دفاع نہیں رہا۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یورپ اپنے اصولی مؤقف پر کس حد تک عمل درآمد کرے گا، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ اب یورپ یہ سوال کھلے عام اٹھا رہا ہے۔ یہی خود ایک تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔









