غم اور ہم

[post-views]

[post-views]

By Saba Rafique
The writer is interested in literature and Social behaviour


ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ ضرور ہوا ہوتا ہے جو اسے لفظ غم سے روشناس کرواتاہے، غم اس انسان کے اندر ایسے سکونت اختیار کر لیتاہے جیسے وہی انسان اسکا مستقل مسکن ہوں
کچھ دن پہلے میں سپیڈو میں سفر کر رہی تھی اور میری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو کلمہ چوک سٹاپ کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

میں نے بے ساختہ اس سے 5 منٹ انتظار کرنے کو کہا اور ہمارے درمیان شوکت خانم کے روٹ سے کلمہ چوک تک گفتگو شروع ہوتی ہے اور تجسس سے میں نے اس سے پوچھا شوکت خانم؟
اس نے مختصراً بتایا کہ وہ بریسٹ کینسر کی مریض ہے یہاں اپنے چاچو کے گھر میں اپنے کیمو کے علاج کے لیے مقیم ہے۔
میں اس کی ہمت دیکھ کر حیران رہ گئی، اس کی آواز میں جوش اور ولولہ تھا اور جب وہ اپنے کینسر کے بارے میں بتا رہی تھی تو اس کی آواز میں ذرا بھی لرزش نہیں تھی۔.

اس نے بتایا کہ اس نے اپنے تینوں بچوں اور والدین کو کھو دیا ہے اور اب اسے کینسر ہے تو اس نے سیکھا کہ غم کیا ہوتا ہے۔؟ سچا غم۔ کس طرح غم اس کے جسم میں حرکت کرتا ہے؟کتنا غم اس کے اندر بستا ہے؟۔ کس طرح غم اس کی جلد اور روح کا حصہ بن گیا ہے؟ اس کے خلیات میں غم نے ایک مستقل گھربنا لیا ہے۔ لیکن اس نے اس کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے۔ اور وہ دن میں کئی بار خوش ہوتی ہے اگرچہ پہلے کی طرح کبھی نہیں، لیکن… لیکن بات یہی ہے۔ ڈھونڈتے رہنے کے لیے…. نئے طریقے

رپبلک پالیسی کا ماہ جون کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔


وہ بہت ثابت قدم تھی اور میں نے اس کے الفاظ کو جذباتی طور پر دل میں محسوس کیا۔ہاں ہر کوئی مستقل غم کے ساتھ جینا سیکھتا ہے
غم کے ساتھ جب ذندہ رھنا آجاۓ تو غم بھی تقویت دیتا ہے کیونکہ
“بے شک میں اپنی بے قراری اور اپنے غم کا شکوہ اللہ سے کرتا ہوں”

سورہ یوسف 86

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos