سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف سماعت شروع

[post-views]
[post-views]

کچھ عرصے سے ملک میں سیاسی خرابی کے بعد طویل خاموشی کے درمیان، سپریم کورٹ نےایک بلاک بسٹرمقدمہ  کی روزانہ کی بنیادپر سماعت شروع کر دی ہے۔ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو چیلنج کرنے والی چار درخواستوں پر کل سماعت کا آغاز ہوا۔  جیسا کہ رواج بن چکا ہے، عدالت کو ہر بار ایک نئےتنازعہ میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔ جمعرات کی سہ پہر کو درخواستوں کی سماعت کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے نامزد کردہ نو ججوں کے کچھ ہی دیر بعد، سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسا نے اپنے آپ کو بینچ سےتب تک  علیحدہ رہنا کا کہا کہ جب تک سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجرز) ایکٹ سے متعلق ایک پٹیشن کا فیصلہ نہیں آتا۔ اس ایکٹ کے تحت بنچوں کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ جسٹس عیسا اور طارق مسعود کو بنچ  سے علیحدہ کر کے بنچ کی جلد از سر نو تشکیل کر دی گئی۔ خوش قسمتی سے، کسی دوسرے جج، درخواست گزار یا مدعا علیہ نے نئے بنچ پر اعتراض نہیں کیا، اور اب یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ سماعت بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھے گی۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

عدالت کے سامنے یہ معاملہ بلاشبہ قومی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ سینکڑوں نہیں تو درجنوں شہریوں کی قسمت سے متعلق ہے جنہیں گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹنے والے فسادات کے دوران متعدد فوجی املاک کی توڑ پھوڑ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا اور اب ان کو فوجی عدالتوں میں کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔ درخواست گزاروں میں اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ جیسے قابل ذکر وکلاء کے ساتھ ساتھ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل ہیں، جن کی شمولیت پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کسی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس کی جانب سے پہلی مرتبہ ہے۔ انہوں نے کم و بیش اسی طرح کے دلائل پیش کیے ہیں، اُنہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سول شہریوں کا ٹرائل پاکستان کے شہریوں کو دیے گئے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ کہ کسی بھی صورت میں، عام عدالتوں کے باوجود آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہیے۔

آن لائن رپبلک پالیسی کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

قابل ذکر ہے کہ درخواست گزار مشتبہ افراد کے لیے کوئی قانونی ریلیف نہیں مانگ رہے ہیں: صرف یہ کہ ان کا مقدمہ فوجی عدالتوں کے بجائے عام عدالتوں میں چلایا جائے۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل کے جوابی دلائل سننا دلچسپ ہوگا، جو مسلح افواج کے اس مطالبے کا دفاع کریں گے، جس کی حکومت نے توثیق کی تھی، کہ تمام مشتبہ افراد کا کورٹ مارشل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنی سماعتوں کو مختصر رکھنے اور جلد از جلد کیس کا فیصلہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کے لیے ایک واٹر شیڈ ثابت ہو سکتا ہے۔ سامنے یہ سوال ہے کہ پاکستانی قانونی اور عدالتی نظام میں فوجی قوانین اور عدالتیں کیا دائرہ اختیار رکھتی ہیں۔ برسوں سے، لکیریں دھندلی رہی ہیں، جس کی وجہ سے انصاف کے کچھ سنگین معاملات  کا گلہ گھونٹاگیا۔ ملک ایک تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے، اب مقررہ حدود طے کرنے کا اچھا وقت ہے تاکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos