بٹگرام امدادی آپریشن شمالی علاقہ جات میں بہتر اور محفوظ انفراسٹرکچر کی اہمیت پر ضرور دیتا ہے

[post-views]
[post-views]

منگل کو خیبرپختوانخواضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کے علاقے میں 7 سکول کے بچے اور ایک استاد کیبل کار کی رسی ٹوٹنے سے 600 فٹ کی بلندی پر پھنس گئے تھے جن کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

اگرچہ بچاؤ کی اس جرأت مندانہ کوششوں میں شامل تمام افراد تعریف کے مستحق ہیں، یہ واقعہ شہریوں کی سہولت کے لیے دور دراز مقامات جیسے الائی میں بہتراور محفوظ انفراسٹرکچر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

کیبل کار میں سواربچے اور استاد سکول جا رہے تھے اور وہ ایک دریا کے اوپر 600 فٹ بلندی پر لٹک گئے۔ تقریباً 14 گھنٹے جاری رہنے والی مشترکہ کوششوں میں جس میں فوجی اہلکار، امدادی کارکنان اور مقامی لوگ شامل تھے بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہو گئے۔

اگرچہ ہیلی کاپٹر کے ذریعےکیبل کار میں پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کی کوششوں میں صرف محدود کامیابی ملی، امدادی کارکنوں نے رات ڈھلنے کے بعد آپریشن جاری رکھا اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کربقیہ تمام مسافروں کو بحفاظت نکال کر اس امدادی آپریشن کا کامیابی سے خاتمہ کر لیا۔

ایسے کارنامے اکثر فلموں میں دیکھنے کو ملتے ہیں، اس بے لوث خدمت اور بہادری کی بنا پر پوری قوم ان حقیقی زندگی کے ہیروؤں کی شکر گزار ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں یہ امدادی آپریشن کر کے تمام افراد کو بچا لیا۔

اس واقع کے بعد الائی جیسے دشوار گزار خطوں کے ساتھ دور دراز علاقوں میں رہنے والی کمیونٹیز کے مواصلاتی مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ درحقیقت، سڑکوں اور پلوں سمیت محدود انفراسٹرکچر کی وجہ سے، ایسی کیبل کاریں اکثر پہاڑی شمال کے کچھ حصوں، خاص طور پر کے پی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سفر کرنے کا واحد عملی آپشن ہوتی ہیں۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

اگرچہ حفاظتی خصوصیات ایسی کیبل کاروں میں کم ہیں کیونکہ یہ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کی بنیاد پر بنائی ہیں اور فضائی نقل و حمل کی یہ شکل دور دراز کی وادیوں اور بستیوں کے رہائشیوں کے لیے لائف لائن ہے۔

یہ کیبل کاریں انہوں نے وقت کے بچا ؤ اور پیسے بچانے کے لیے بنائی ہیں، کیونکہ سڑک کے سفر میں گھنٹے لگتے ہیں اور پیسے بھی بہت خرچ ہوتے ہیں، تو اس سفر کے دوران کئی گھنٹے بچ جاتے ہیں اور منٹوں میں سفر طے ہو جاتا ہے۔ لیکن حادثے کا خطرہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے، جیسا کہ منگل کے روز ہم سب نے دیکھا۔ 2017 میں مری میں اسی طرح کے ایک حادثے کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں۔

دور دراز مقامات پر بستیوں کو جوڑنے کے لیے اہم انفراسٹرکچر، جیسے سڑکیں اور پلوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہے تو 1122 اور پی ڈی ایم اے، کے پی جیسی باڈیز کے ساتھ کیبل کار سسٹم نصب کیا جا سکتا ہے، جو کہ پہاڑی علاقوں جیسے کہ بٹگرام، شانگلہ، کوہستان اور چترال میں فوری ردعمل کے لیے تربیت یافتہ کیبل کار ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

متعلقہ مقامی انتظامیہ کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس طرح کے ڈھانچے کا حفاظتی معائنہ کیا جائے۔ مزید یہ کہ ریاست بنیادی سہولیات جیسے کہ سکول، کلینک وغیرہ لوگوں کی بستیوں کے قریب فراہم کرے تاکہ انہیں تعلیم حاصل کرنے یا ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیےان دشوار گزار راستوں سے گزرنا نہ پڑے۔ ٹیلی کمیونی کیشن کا بہتر انفراسٹرکچر دور دراز کی کمیونٹیز میں آن لائن سیکھنے اور ٹیلی میڈیسن کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos