تحریر: ڈاکٹر محمد کلیم
آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اس لیے ہر خبر اسی پر ہی ملتی ہے ہمیں بھی اس کتاب ”یہ قصہ کیا ہے معنی کا“ یہیں معلوم ہوا۔ ویسے بھی اس کے مصنف پاکستان کے بہترین تنقید نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ لیکن ناصر عباس نیئر کی شہرت کے باوجود تنقید کی کتاب پڑھنا ہمارے لیے ہمیشہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس بار ہماری سوچ بدل گئی ہے کتاب پر بہترین تبصرے پڑھ کے ہم نے دل پر پتھر رکھ کر کتاب کا مطالعہ شروع کیا اور پھر خود کو اس کے حوالے کر دیا۔
ویسے بھی اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو آپ کو جلد ہی اپنے سحر میں جکڑ لے اور آپ کو اپنے ساتھ آگے سے آگے لیے چلے اور قاری کتاب ختم کر کے دم لے۔ ناصر عباس نیئر کا اسلوب اتنا دم دار ہے کہ یہ نہ صرف آپ کو پڑھنے پر اکساتا ہے بلکہ اکثر مقامات پر رک کر آپ کو سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کتاب سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو:۔
سب سے بڑا اور سب سے خوفناک اجارہ سچائی پر ہوتا ہے۔ سچائی کے کسی ایک تصور کو حتمی بنا کر پیش کرنا یا سچائی کے منتخب حصوں کو سامنے لانا اور انہیں مکمل سچ کا درجہ دینا فرضی و جھوٹی باتوں کو سچ کے طور پر پیش کرنا، سچ بولنے والوں کو کڑی کڑی سزاؤں سے دوچار کرنا اور لکھنے والوں کے لیے خوف کی فضا طاری کیے رکھنا، سچائی پر اجارے کی چند نمایاں صورتیں ہیں۔
مزاحمت اور اردو افسانہ
اس کتاب میں کل چھبیس مضمون شامل ہیں کچھ طویل اور کچھ مختصر ہیں۔ کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں نئے مسائل و مباحث، شاعری اور شاعر، فکشن پرانا اور نیا اور متفرق۔ کتاب کا پہلا مضمون ”مطالعہ کیسے کریں“ ایک لازوال مضمون ہے۔ اس میں مطالعہ کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اب انسان سوچتا ہے کہ مطالعہ کرنے کا بھی کوئی خاص طریقہ ہو سکتا ہے؟ لیکن مصنف اس کو بیان کرتے ہیں اور دلائل کی روشنی میں اپنا مدعا پیش کرتے ہیں۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
مطالعہ ابتدا میں سعی طلب ہوتا ہے اور بعد میں خود کار۔ ہم سب ازلی سہل طلب ہیں۔ اس لیے جن چیزوں کو سعی طلب رہنا چاہیے۔ انہیں بھی خودکار عمل اور عادت بنا لیتے ہیں۔ عادت حیرت کا خاتمہ کرتی ہے اور چیزوں کی نوعیت سے متعلق سوالات سے صرف نظر کرنا سکھاتی ہے۔
مطالعہ کیسا کریں
کیونکہ ہم بھی مطالعہ کرنے کی ”لت“ میں پڑے ہوئے ہیں اس لیے بعض مرتبہ لگتا ہے کہ ہم مطالعہ صرف عادتاً کر رہے ہوتے ہیں اور اس سے کوئی نئی شے، نیا نظریہ یا نئی بات نہیں سیکھ رہے ہوتے۔ اس مضمون میں آگے چل کر مصنف واضح کرتے ہیں کہ ہم کیسے مطالعہ کر کے نئے سوالات کو جنم دے سکتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مصنف ہم کو زاہد ڈار سے متعارف کراتے ہیں جو کہ اچھے شاعر تھے لیکن تمام عمر مطالعہ میں مصروف رہے اور بہت کم کلام لکھا۔
سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں
دنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں
اس طرح فکشن کے باب میں مصنف اکرام اللہ صاحب سے ان کے ناول گرگ شب کے ذریعہ تعارف کراتے ہیں۔ گرگ شب ضیا کے دور میں چھپا لیکن اس کو بین کر دیا گیا لیکن حال ہی میں دوبارہ اس کو چھاپا گیا ہے۔ یہ مظفر/شفیع کی کہانی ہے جو کہ حرامی ہے۔ اپنی اس سچائی سے وہ کس طرح لڑتا ہے اور کس طرح ساری عمر اس سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہتا ہے۔
تنقید اکیسویں صدی میں ایک اور عمدہ مضمون ہے اس میں مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں :۔
دو ہزار اٹھارہ کے بعد لبرل ازم کو شدید دھچکا لگا جب امریکہ، ہندوستان، برطانیہ، برازیل اور پاکستان میں نیا عوامیت پسند دائیں بازو پوسٹ ٹروتھ کی مدد سے بر سر اقتدار آیا۔ پاپولزم میں زینوفوبیا یعنی اجنبیوں سے خوف، تارکین سے حقارت، نسلی قوم پرستی اور طاقت و اختیار کو فاشسٹ طریقے سے کام میں لانے کے عناصر کار فرما ہوتے ہیں۔
اس سے آگے اس مضمون میں پاکستانی قوم کے بارے میں لکھتے ہیں :۔
خود پسندی، اعادیت، سطحیت، تاثریت، تعصب، تنگ نظری اور اوسط درجے کی صلاحیت (میڈیوکریٹی) یہ سب عارضے ہیں۔ جہاں یہ سب عوارض موجود ہوں اور انہیں جواز فراہم کرنے کی روش بھی ہو تو ایسے سماج کو باہر کے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنا گلا خود اپنے ہاتھوں گھونٹنے میں راحت ہی نہیں حق بجانب بھی محسوس کرتے ہیں۔
تنقید اکیسویں صدی میں
کتاب کے ہر صفحہ میں علم و دانش کے موتی بکھرے ہوئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے فلسفہ، ادب، نفسیات باہم اکٹھے ہو کر آ گئے ہیں اور دھیمے سروں میں اس ملک کا اور تنقید کا نوحہ بیان کر رہے ہیں۔








